اسلام آباد(سب نیوز)مالی سال 24-2023ء کے بجٹ میں اسمارٹ فونز سمیت بعض لگژری درآمدی اشیاء پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ متوقع ہے جبکہ باہر سے منگوائے جانے والے مشروبات، سگریٹس، میک اپ کے سامان اور برقی آلات پر 25 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
حکومت کی جانب سے بجٹ 24-2023ء میں اسمارٹ فونز سمیت بعض لگژری درآمدی اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے، جس سے موبائل فونز مہنگے ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق 100 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے جبکہ ڈرنکس اور سگریٹس پر ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کی تجویز، امپورٹڈ انرجی سیور بلب، فانوس اور ایل ای ڈی بھی مہنگے ہونے کا امکان ہے، امپورٹڈ الیکٹرونکس آئٹمز پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں میک اپ کے امپورٹڈ سامان پر 25 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا، پالتو جانوروں کی امپورٹڈ خوراک پر بھی 25فیصد سیلز ٹیکس رہے گا، امپورٹڈ بسکٹ اور بیکری آئٹمز پر 25 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہنے کا امکان ہے، امپورٹڈ چاکلیٹ، کینڈی پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت امپورٹڈ لپ اسٹک، مسکارے اور فیس پاؤڈر پر سیلز ٹیکس 25 فیصد برقرار رکھنا چاہتی ہے، درآمدی ہیئر کلرز اور ڈائیرز پر بھی اسی تناسب سے سیلز ٹیکس لیا جائے گا، امپورٹڈ برانڈڈ شوز پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خواتین کے امپورٹڈ برانڈ کے پرس پر بھی سیلز ٹیکس 25 فیصد ہی وصول کیا جائے گا، امپورٹڈ سن گلاسز اور پرفیومز پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد برقرار رہے گی۔
