اسلام آباد:حکومت نے تنخواہوں کی تفصیل پبلک اکاونٹس کمیٹی کوبھجوا دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کتنی تنخواہ لے رہے ہیں۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چئیرمین نورعالم خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری قانون اور اٹارنی جنرل بھی شریک ہوئے۔
کمیٹی چیئرمین نور عالم نے کہا کہ آج رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کیا تھا، لیکن وہ نہیں آئے، سپریم کورٹ کے حسابات کے آڈٹ کا معاملہ زیر سماعت ہے۔
کمیٹی رکن شیخ روحیل اصغر نے تجویز دی کہ حکومت سے کہیں کہ سپریم کورٹ کی گرانٹ کم کردیں، سپریم کورٹ جواب دہی کیلئے تیار ہی نہیں ہے۔
نور عالم خان نے کہا کہ ہم قانون سے ماورا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے، ہم قاعدہ 203 کے تحت کارروائی کر رہے ہیں، حکومت نے تنخواہوں کی تفصیل کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔
کمیٹی چیئرمین نور عالم خان نے اجلاس میں بتایا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت کی تنخواہ 8 لاکھ 96 ہزار550 روپے ہے، وزیراعظم کی تنخواہ 2 لاکھ 15 ہزار ہے، جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ 15 لاکھ 75 ہزار ہے، اس کے علاوہ سپریم کورٹ جج کی تنخواہ 14 لاکھ 70 ہزار روپے ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرکی تنخواہ 3 لاکھ 38 ہزار125 روپے ہے، رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزارروپے ہے، جب کہ گریڈ 22 کے وفاقی افسر کی تنخواہ 5 لاکھ 91 ہزار475 ہے۔
واضح رہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں چئیرمین پی اے سی نور عالم نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو 16 مئی کو طلب کیا تھا، اور کہا تھا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ اکاونٹس کمیٹی کے سامنے نہ آئے تو وارنٹ جاری کروں گا، اور اگر وارنٹ پر اسٹے آرڈر لیا گیا تو دوبارہ وارنٹ جاری کروں گا۔
چیئرمین کمیٹی نے آڈیٹر جنرل کو ججز، صدر اور وزیراعظم کی تنخواہوں کا موازنہ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی، جب کہ نیشنل کرائم ایجنسی یو کے سے 190 ملین پانڈ کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔
صدر مملکت، وزیراعظم اور چیف جسٹس میں سب سے زیادہ تنخواہ کس کی ہے؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
