اسلام آباد:اداروں میں بغاوت پر اکسانے کے الزام اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج مقدمات میں عمران خان کی دو کیسزمیں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظورکرلی گئی۔اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،عمران خان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر اورعلی بخاری عدالت میں موجود تھے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹرجہانگیر جدون عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اسلام آباد پولیس حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔
بیرسٹرگوہر نے کہا عمران خان کی آج استثنیٰ کی درخواست دائر کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے ریماکس دئیے کہ احاطہ عدالت سے گرفتاری پر ایف آئی آر ہوئی یا نہیں ؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ابھی تک سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم نہیں آیا ہے،سپریم کورٹ نے کہا کہ سارے معاملے کو ریورس کردیں۔
چیف جسٹس نے ریماکس دئیے اگرمیرا آرڈر نہ بھی ہو اس کے باوجود لوگ زخمی بھی ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا انتظار کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آجائے،عدالت نیریمارکس دیے کہ ایف آئی آربروقت نا ہوتوپھر تاخیر کا ایشوبھی ہوتا ہے،ہمارے آفس سے شکایت توپولیس کو جا بھی چکی ہے،کہیں ہائیکورٹ کوبھی 22 اے نہ لینی پڑجائے۔
چیف جسٹس نے کہا کیا پھر رجسٹرارکو کہہ دوں کہ وہ 22اے میں چلے جائیں،اسے دیکھ لیں، خود اور ادارے کو شرمندہ نہ کریں۔
علاوہ ازیں عدالت نے عمران خان کی 2 مقدمات میں ضمانت میں 8 جون تک توسیع کردی۔اس کے علاوہ عدالت نے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کرلی۔
ایڈووکیٹ جنرل نیکہا سیکرٹری داخلہ کیخلاف توہین عدالت نوٹس واپس لیاجائے،جس پرچیف جسٹس نیریماکس دئیے کہ آپ کی بات درست،سپریم کورٹ کا فیصلہ آجائے پھردیکھ لیں گے۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت مئی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔
بغاوت پر اکسانے کا الزام ،عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
