Wednesday, May 27, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانسپریم کورٹ نے مرضی کے بغیر کسی فرد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا غیر قانونی قرار دیا

سپریم کورٹ نے مرضی کے بغیر کسی فرد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا غیر قانونی قرار دیا

اسلام آباد :سپریم کورٹ نے مرضی کے بغیر کسی فرد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا غیر قانونی قرار دیا،جاری فیصلے کے مطابق دیوانی مقدمات میں بغیر مرضی کے ڈی این اے ٹیسٹ شخصی آزادی اور نجی زندگی کیخلاف ہے، آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 شخصی آزادی اور نجی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں، تاج دین اور زبیدہ بی بی جن کے ڈی این کا حکم دیا گیا وہ کیس میں فریق ہی نہیں تھے، نجی زندگی کا تعلق انسان کے حق زندگی کے ساتھ منسلک ہے، مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ نجی زندگی میں مداخلت اور بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے

، فوجداری قوانین کی بعض شقوں میں مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت ہے مگر سول مقدمات میں نہیں، قانون شہادت کے مطابق شادی کے عرصے میں پیدا ہونے والے بچے کی ولدیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا،جائیداد کے تنازعہ میں لاہور ہائیکورٹ نے تاج دین،زبیدہ بی بی اور محمد نواز کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔