اسلام آباد-قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حکومت سے ٹیلی کام آلات کی درآمد کے لیے ایل سیز کھولنے کی سفارش کر دی۔میر خان محمد جمالی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پچھلے 2 سال میں سروس کے مسائل پر کمپنیوں کو 37 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، کراچی ساتھ میں سروس کے مسائل سامنے آئے ہیں جبکہ چترال میں سروس کے مسائل پر دو سروے کیے گئے۔
پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز میں انٹر نیٹ کوریج بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے، عمارت کی ساخت ایسی ہے کہ سروس کے ایشوز آ رہے ہیں، تکنیکی مسائل کی وجہ سے پوری عمارت کور نہیں کی جاسکتی۔ممبر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بتایا کہ ٹیلی کام اوپن مارکیٹ ہے، ٹیرف کا فیصلہ پی ٹی اے یا وزارت نہیں کرتی۔رکن کمیٹی مہیش کمار کا کہنا تھا تھر میں ابھی وزیر اعظم گئے تو موبائل نیٹ ورک نہیں تھا، وزیراعظم نے بھی پوچھا کہ موبائل سروس کیوں نہیں ہے؟حکام پی ٹی اے نے بتایا کہ کوئٹہ ریڈ زون میں ٹاورز لگانے کی اجازت 2 سال سے نہیں ملی، کوئٹہ ریڈ زون میں 28 سیف سٹی ٹاورز لگے ہیں،
جس پر کمیٹی نے کوئٹہ ریڈ زون میں ٹاورز لگانے کی اجازت دینے کی سفارش کر دی۔ممبر کمیٹی نے کہا کہ شکرگڑھ اور نارووال کے متعدد علاقوں میں موبائل سروس نہیں ہے، جس پر پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں 3 کلومیٹر کی حدود میں ٹاور نہیں لگ سکتا، پہلے یہ حد 10 کلومیٹر تھی اب 3 کلومیٹر کردی گئی ہے، سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ان علاقوں میں موبائل سروس کے ایشو آتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حکومت سے ٹیلی کام آلات کی درآمد کے لیے ایل سیز کھولنے کی سفارش کر دی۔
