ہومUncategorizedچائنا میڈیا گروپ کی جانب سے چینی طرز کی جدیدیت اور سی پیک کی مشترکہ تعمیر کے موضوع پر ورچوئل سیمینار کا انعقاد

چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے چینی طرز کی جدیدیت اور سی پیک کی مشترکہ تعمیر کے موضوع پر ورچوئل سیمینار کا انعقاد

چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے چینی طرز کی جدیدیت اور سی پیک کی مشترکہ تعمیر کے موضوع پر ورچوئل سیمینار کا انعقاد


پندرہ مارچ کو چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے سی پیک کی مشترکہ تعمیر اور چینی طرز کی جدیدیت کے موضوع پر ورچوئل سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔چائنا میڈیا گروپ کے صحافیوں، مبصرین، پاکستان کے متعدد ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سیمینار میں شرکت کی اور چینی طرز کی جدیدیت ، چین پاک اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیاری ترقی اور میڈیا کے کردار سمیت دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
سیمینار میں چائنا میڈیا گروپ کے چینی اور پاکستانی صحافیوں نے چینی طرز کی جدیدیت کو متعارف کروایا۔شرکاء کا کہنا تھا کہ چینی طرز کی جدیدیت پرامن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
رواں سال دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹیو پیش کرنے کی دسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے فلیگ شپ منصوبے کی حیثیت سے چین-پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر اعلیٰ معیاری ترقی کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،جس سے پاکستانی معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں بھی آئی ہیں ۔سیمینار کے شرکا کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیاری ترقی میں میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیئے اور سی پیک کی مشترکہ تعمیر اور دونوں ممالک کے تعلقات کی ترقی کے لیے رائے عامہ کا سازگار ماحول تیار کرنا چاہیئے۔

اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے عالمی دن پر چینی وزارت خارجہ کا تبصرہ
15 مارچ کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے پہلے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے پہلے چین- عرب سربراہی اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ ہمیں مشترکہ طور پر اسلاموفوبیا کی مخالفت کرنی چاہیے، انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تعاون کرنا چاہیے اور دہشت گردی کو مخصوص قومیتی گروہوں اور مذاہب سے جوڑنے کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا یہ بیان مذہبی امتیاز اور نفرت کے خلاف چین کے مستقل موقف کی مکمل عکاسی ہے۔
ہم یہ نہیں بھولیں گے کہ امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف جنگیں شروع کیں جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان ہلاک اور پناہ گزین بن گئے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکہ کی سابقہ انتظامیہ نے “مسلمانوں پر پابندی” عائد کی تھی، جس سے امریکہ دنیا کا واحد ملک بن گیا تھا جس نے خاص طور پر مسلم گروہوں کے لیے پابندی جاری کی تھی۔ امریکی حکومت کو ان مسائل کا سامنا کرنا چاہیے اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔

چین کے ساتھ تجارتی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے پر امید ہیں ، نیپالی وزیر اعظم
نیپال کے وزیر اعظم رام چندر پوڈیل نے 14 تاریخ کو کھٹمنڈو میں 2023 چین نیپال سرمایہ کاری اور اقتصادی اور تجارتی فورم میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے اور مزید چینی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی امید کرتے ہیں تاکہ نیپال اپنے ترقیاتی اہداف کی تکمیل کر سکے ۔
رام چندر پوڈیل نے نشاندہی کی کہ چین نیپال کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور نیپال کا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال کو یقین ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کی کامیابیاں نیپال کے لئے مزید مواقع فراہم کریں گی اور متعلقہ تجارت اور سرمایہ کاری نیپال کی ترقی اور خوشحالی میں مدد کرے گی۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نیپال ایک چین کے اصول پر عمل پیرا رہے گا اور یہ نیپال کی مستقل پالیسی ہے کہ چین مخالف سرگرمیوں کے لئے نیپالی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ د ی جائے ۔
  نیپال میں چین کے سفیر چھن سونگ نے اپنی تقریر میں کہا کہ چین نیپال کو چین کی ترقی سے فائدہ اٹھانے پر خوش آمدید کہتا ہے اور “بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو اور عالمی ترقیاتی انیشیٹو میں فعال طور پر حصہ لینے پر نیپال کا خیرمقدم کرتا ہے۔

نجی کاروباری اداروں کا چینی معیشت کی مستحکم ترقی میں اہم کردار
میں رات کے کھانے کے بعد گھر سے باہر سڑک پر چہل قدمی کر رہی تھی ۔ ہماری رہائشی کالونی کے راستے کی دونوں اطراف موجود دکانیں روشن تھیں۔ ریستوراں میں لوگ آرام سے کھانا کھا رہے تھے اور دن بھر کی تھکن کو دور کرنے کے لیے گپ شپ میں مصروف تھے۔ جم میں نوجوان ورزش پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے ، جم کے باہر سے گزرنے والے راہگیر ان کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے ۔ اسی طرح کہیں روبوٹکس، پینٹنگ اور دیگر تربیتی کورسز میں شریک بچے لگن سے اپنے غیر نصابی علم سیکھ رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔ یہ درمیانے اور چھوٹے نجی کاروباری ادارے ہماری روزمرہ کی زندگی سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، ان کی مصروفیت لوگوں کو یہ بتاتی ہے کہ وبا کے خلاف چین کی فعال لڑائی کے تین سالوں کے بعد، نجی کاروباری ادارے بحالی کی رفتار کو تیز کر رہے ہیں، اور آپ ہر جگہ چین کی معیشت کی قوت حیات کو محسوس کر سکتے ہیں.
میں نے ایسی کہاوت سنی ہے کہ نجی کاروباری ادارے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، پوری قومی معیشت کی “کیپلریز” ہیں۔ یہ بالکل درست ہے ۔ یاد رہے کہ 40 سال قبل چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں دریائے پرل کے دونوں کناروں پر چین میں نجی تاجروں کی پہلی کھیپ پیدا ہوئی تھی اور نجی معیشت کا آغاز یہیں سے ہوا تھا۔ آج ، چین کے نجی کاروباری ادارے چھوٹے سے بڑے اور کمزور سے مضبوط تک بڑھ چکے ہیں، جو چین کی اقتصادی ترقی میں ناقابل تلافی کردار ادا کر رہے ہیں. اعداد و شمار کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے چین کی ٹیکس آمدنی میں 50 فیصد سے زیادہ، جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ، تکنیکی جدت طرازی کی کامیابیوں میں 70 فیصد سے زیادہ اور روزگار کی فراہمی میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔ صدر شی جن پھنگ نے مرکزی سیاسی بیورو کے اجلاس ، نجی انٹرپرائز سمپوزیم ، یا مختلف علاقوں کے دورے کے دوران مختلف مواقع پر نجی کاروباری اداروں کی مضبوط حمایت کا اظہار کیا ۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کےنجی کاروباری ادارے معیشت کی بڑی لہر میں چھوٹی کشتیوں کی طرح آگے چلتے ہیں، ان کے چھوٹے سائز کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر ہوا اور لہروں سے لڑنے میں کمزور ہوں گے۔ اس لیے یہ کاروباری ادارے وبا کے دوران بڑے کاروباری اداروں کے مقابلے میں زیادہ شدید متاثر ہوئے ، لیکن “چھوٹی کشتی” کی وجہ سے اسے موڑ نا بھی آسان ہے۔ چین میں وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے بعد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں نے تیزی سے اپنی حالت کو تربیت دیتے ہوئے اپنی معاشی قوت حیات اور پوشیدہ صلاحیت دکھائی ہے ۔ اس کے علاوہ، چینی حکومت نجی کاروباری اداروں کی ترقی کی بھرپور حمایت کر تی رہتی ہے۔ اس نے نجی کاروباری اداروں کی ترقیاتی ضروریات اور گھریلو اور غیر ملکی معاشی ماحول میں تبدیلیوں کے مطابق، نجی کاروباری اداروں کی ترقی او ر سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پالیسیوں اور اقدامات اختیار کئے ہیں ۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے “دو اجلاسوں کے دوران صدر شی جن پھنگ نے چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے ممبران سے ملاقات کے موقع پر خاص طور پر نجی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اعتماد میں اضافہ کریں ، جرات مندانہ ترقی کریں ، اور نجی معیشت کی صحت مند اور اعلیٰ معیار کی ترقی حاصل کریں۔ صدر شی کا خطاب بلاشبہ نجی کاروباری اداروں کی مشکلات پر قابو پانے اور ترقی کے لئے جدوجہد کرنے کے اعتماد کی بہت حوصلہ افزائی کرے گا ۔ اعتماد اور نظام کے تحفظ کے ساتھ، مرکزی سے مقامی تک، پالیسی سے سرمایہ کاری تک، چین فعال طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی کاروباری اداروں کی ترقی کی مدد کرتا ہے، اور ان کے لئے مستقل طور پر ایک آرام دہ اور ہم آہنگ ماحول پیدا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اس وقت سائنسی اور تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کا نیا دور شروع ہو رہا ہے ۔ ایسے موقع پر چین کے نجی کاروباری ادارے یقیناً مضبوط ترقی کے ایک اور سنہری دور کا آغاز کریں گے.
گزشتہ 10 سالوں میں، چین کی نجی معیشت نے پائیدار اور صحت مند ترقی کی ہے. نجی کاروباری اداروں کی تعداد 2012 میں 10.857 ملین سے بڑھ کر 2022 میں 47 ملین سے زیادہ ہوگئی اور قومی سطح کے خصوصی جدید ٹیکنالوجی کے حامل کاروباری اداروں میں، نجی اداروں کا حصہ 80فیصد سے زیادہ ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ نجی اداروں کی ترقی کے بغیر ، چین کی معیشت کی مستحکم ترقی نہیں ہو سکتی ، اور چین کی معیشت نجی اداروں کی بھرپور ترقی کے بغیر ، رواں سال 5فیصد نمو کے متوقع ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گی ۔

ایسا باغ جس میں کوئی پودا نہیں تھا ،وہاں اب کیا اگ گیا؟
سال دو ہزار بیس میں چین کے شہر شین زن میں ایک باغ کو لوگوں کے لیے کھولا گیا جس میں ایک بھی درخت یا پودا نہیں تھا۔ آخراس قسم کے باغ کا مقصد کیا تھا ؟اور کون یہاں سیروتفریح کرنے آتا؟پھر خالی زمین دیکھ کر لوگ یہ پوچھے بغیر بھی نہیں رہ سکے کہ بھلا اس باغ میں کیا خاص چیز ہو گی ؟
سماجی ترقی اور زندگی کے لیے عوام کی ضروریات میں کھانے کے علاوہ خوبصورت رہائشی ماحول بھی شامل ہےاور یہی حالیہ برسوں میں چین کا اعلی معیار کی ترقی کو فروغ دینے کا سب سے اہم مقصد ہے۔ اعلی معیار کی ترقی عوام کو مزید سبز رہائشی ماحول فراہم کرتی ہے ،دوسری طرف عوام کا ماحول دوست شعوربھی اعلی معیار کی ترقی کے لیے مضبوط حمایت کرتا ہے۔ماحولیاتی بیداری پیدا کرنے کے عمل میں، قدرت کے ساتھ براہ راست رابطہ اہم ہے اور شہروں میں رہنے والوں کے لیے باغ ہی قدرت سے رابطے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ باغ میں ورزش کی مکمل سہولیات اور لینڈ اسکیپ پودوں کا مکمل ڈیزائن موجود ہوتا ہے لیکن شین زن کے اس باغ میں ڈیزائنر نے ایک جرات مندانہ کوشش کی اور ایک بھی درخت یا پودا نہیں لگایا۔تاہم وہ پورے شین زن سے مختلف اقسام کی مٹی لائے۔کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ اس خالی زمین پر کیا معجزہ ہو گا؟ ۔مختلف نباتات کے بیج ہوا،پرندوں نیز کیڑوں کے ساتھ یہاں آئے اور مٹی میں جذب ہو گئے ۔چھ ماہ بعد یہ باغ سبز پودوں سے بھر گیا ۔مزید یہ کہ قومی سطح پر تحفظ پانے والے جنگلی جانور بھی یہاں نظر آنے لگے ۔اس طرح ،ایک چھوٹا لیکن مکمل حیاتیاتی نظام یہاں تشکیل پا گیا ۔
اس سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ پودوں کے بڑھنے اور جانوروں کے آنے کا انتظار کرتے ہوئے ، قدرت کے بارے میں لوگوں کا تجسس بھی بڑھتا رہتا ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں سوچ بھی مزید گہری ہو تی جاتی ہے۔مثلاً یہاں لوگ مٹی سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔یہ باغ تعمیراتی کچرے کا ڈھیرتھا۔ڈیزائنر کا سب سے اہم کام آنے والے بیجوں کے لیے مٹی تیار کرنا تھا۔ڈیزائنر پھانگ وے نے بتایا کہ مٹی کافی قیمتی ہے ،تیس تا پچاس سینٹی میٹر تہ والی مٹی کی تشکیل میں تین ہزار سے بیس ہزار سال لگتے ہیں ۔حقیقی معنوں میں مٹی نامیاتی ہوتی ہے جو پودوں اور کیڑے مکوڑوں کی مشترکہ کارکردگی کا نتیجہ ہوتی ہے ۔صرف ایک سینٹی میٹر والی مٹی کی تشکیل کے لیے بھی چار سو سال درکار ہوتے ہیں۔یہاں مختلف نباتاتی انواع کی مسابقت کے حوالے سے بھی پتہ چلے گا،مختلف راستے سے یہاں آنے والے بیجوں میں مقامی اور غیرنباتاتی انواع دونوں شامل ہیں۔لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ غیر نباتاتی انواع بیج کے بڑھنے کی رفتار عام طور پر مقامی نباتاتی انواع سے نسبتاً تیز ہوتی ہے،لیکن مقامی پودے بھی مضبوط جڑیں پکڑے ہوئے ہیں۔
انیسویں بین الاقوامی نباتاتی کانگریس کی یاد میں قائم کیے جانے والے اس باغ میں شین زن حکومت نےایک سائنسی تجرباتی منصوبہ بھی شروع کیا جس کے تحت این جی او ز اورنوجوان شائقین اس زمین پر جانوروں اور پودوں کا مسلسل مشاہدہ کر سکتے ہیں۔یہ منصوبہ سال 2121 تک جاری رہے گا اور سو سا لہ یہ منصوبہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں چینیوں کے عزم اور آنے والی نسلوں کے لیے قیمتی قدرتی وراثت دینے کی ذمہ داری کا عکاس ہے۔

امریکہ ٹک ٹاک سے کیوں خوف زدہ ہے؟
امریکہ ایک بار پھر ٹک ٹاک پر اپنا سیاہ ہاتھ ڈال رہا ہے۔ حال ہی میں وائٹ ہاؤس نے امریکی وفاقی حکومتی اداروں کو ایک میمورنڈم جاری کیا ، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر تمام سرکاری ڈیوائسز سے ٹک ٹاک ایپ کو ہٹا دیا جائے۔اُدھر امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے یکم تاریخ کو امریکی صدر جو بائیڈن کو ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا اختیار دینے کے لیے ایک بل کی منظوری بھی دی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے ٹک ٹاک کو دبایا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران بھی ٹک ٹاک کو کئی مرتبہ محدودکرنے اور دبانے کی کوششیں کی گئی تھیں ۔اس مقصد کی خاطر امریکہ نے “قومی سلامتی” کے لئے نام نہاد خطرہ کا بہانہ تراشا ہے. کیا چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی تیار کردہ ایک مقبول موبائل ایپ واقعی امریکی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے؟
امریکی حکومت کے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بائٹ ڈانس نے ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اگست 2020 ہی میں ٹک ٹاک کے امریکی کاروبار کو فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ دوسری جانب امریکی حکومت کے تقاضوں کے مطابق ٹک ٹاک کا ڈیٹا بیس امریکہ میں قائم کیا گیا جس پر چینی قوانین لاگو نہیں ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں، ٹک ٹاک اپنے مواد کے الگورتھم کوڈ کو بھی ظاہر کرنے کے لئے تیار ہے اور چین میں کام کرنے والے ماڈریٹرز غیر ملکی مواد کی نگرانی نہیں کر سکتے ہیں ، تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ امریکی صارفین کے رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی ناممکن ہے۔
سی آئی اے کے تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چینی حکومت کو ٹک ٹاک صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹک ٹاک کی جانب سے امریکی حکومت کے تمام تر تقاضے پورا کرنےکے باجود بھی امریکہ کا بدستور یہ دعویٰ ہے کہ یہ ایپ “قومی سلامتی کے لیے خطرہ” ہے ، جو ظاہر کرتا ہےکہ سیکورٹی محض ایک بہانہ بن چکا ہے.
یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے امریکی صارفین کے لیے ٹک ٹاک کو چھوڑنا کیوں اس قدر مشکل ہے ؟
2018 کے بعد سے ٹک ٹاک اپنی منفرد مصنوعات اور خدمات کی بدولت امریکی مارکیٹ میں تیزی سے مقبول رہی ہے اور کئی سالوں تک بڑے ایپ اسٹورز کی ڈاؤن لوڈ فہرست میں پہلے نمبر پر رہی ہے۔ یو ایس اے ٹوڈے نے یکم مارچ کو ٹک ٹاک کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ ہر ماہ 100 ملین سے زائد امریکی ٹک ٹاک کا استعمال کرتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 13 سے 17 سال کی عمر کے 67 فیصد امریکی نوجوان ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں۔ 30 سال سے کم عمر نوجوان صارفین میں ٹک ٹاک کے استعمال کا تناسب انسٹاگرام، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اعدادو شمار کے مطابق 2022 میں ٹک ٹاک کی اشتہاری آمدنی 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو بہت سے ٹاپ ٹک ٹاکرز کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ فیس بک نے 2018 میں ٹک ٹاک کے مقابلے میں “لاسو” اور پھر “ریلز” لانچ کیے تھے، جو دونوں ناکام رہے تھے۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ذاتی طور پر ٹک ٹاک کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے امریکی حکومت سے لابنگ کی تھی۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں کچھ اجارہ دار کاروباری ادارے سرکاری محکموں کی مدد سے بہانے تلاش کرتے ہوئے اپنے حریفوں کو دباتے ہیں اور یہ اُن کے مقبول آپشنز میں سے ایک ہے۔
دوسری جانب ٹوئٹر کے سی ای او ایلن مسک نے 27 دسمبر 2022 کو کھلم کھلا کہا تھا کہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کومواد سنسر کرنے کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔امریکہ میں رائے عامہ کی سمت حکومتی مداخلت سے متاثر ہوتی ہے اور حکومت کے لئے تمام ناسازگار بیانات پر پابندیاں عائد ہیں، مثلا گوگل اکثر بعض صفحات کو غائب کر دیتا ہے۔
ابھی حال ہی میں تین فروری کو امریکی ریاست اوہائیو میں کیمیکلز لیک ہونے کے واقعے کے بعد آئندہ دس دنوں میں امریکی مین اسٹریم میڈیا پر اس کی کوریج نہ ہونے کے برابر تھی اور جو کچھ کوریج ہوئی، وہ بھی جامع نہیں تھی۔ ٹک ٹاک جیسے ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بدولت اس واقعے کی تفصیلات منظر عام پر لائی گئیں اور شہریوں کے سامنے حقائق پیش کیے گئے۔ ٹک ٹاک کی وجہ سے لوگوں کو مین اسٹریم میڈیا کے مقابلے میں ایک مختلف پہلو نظر آتا ہے جس میں بہت سا ایسا مواد بھی ملتا ہے جو سیاستدانوں کی خواہشات کے برعکس ہے ۔ رائے عامہ پر کنٹرول کھو دینے کے بعد ، فطری طور پر متعلقہ انتظامیہ اسے برداشت نہیں کر سکتی ہے۔
ٹک ٹاک پر پابندی بلاشبہ سیکیورٹی معاملے کے بجائے ایک سیاسی مسئلہ ہے جو امریکہ میں کاروباری تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی میں “دوہرے معیار” کا ایک اور ثبوت ہے۔ اپریل 2022 میں ، امریکی حکومت نے 50 سے زیادہ ممالک اور علاقوں کے ساتھ جو “انٹرنیٹ کا مستقبل” نامی اعلامیہ جاری کیا ، اس میں انٹرنیٹ کے “کھلے پن ، آزادی اور عالمگیریت” کی حمایت کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ لیکن ٹک ٹاک کے خلاف کارروائی امریکی قیادت میں اس اعلامیے کے منہ پر طمانچہ ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کا نام نہاد “کھلاپن، آزادی اور عالمگیریت ” امریکی بالادستی اورمفادات پر مبنی ہے۔جب مسابقتی برتری کھو جاتی ہے تو ، آپ “قومی سلامتی کے لئے خطرہ” بن جاتے ہیں۔

“چین کی جدیدیت اور دنیا کے لئے نئے مواقع” کے موضوع پر اقوام متحدہ میں خصوصی سیمینار اور خصوصی پروگرام کا آغاز
14 مارچ کو ، اقوام متحدہ میں چائنا میڈیا گروپ کے دفتر کے زیر اہتمام “چین کی جدیدیت اور دنیا کے لئے نئے مواقع”کے موضوع پر آن لائین خصوصی سیمینار اور خصوصی پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور دیگر معزز شرکا نے کہا کہ چین کے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے عالمی برادری کو فائدہ ہو رہا ہے۔ مہمانوں نے عالمی اقتصادی ترقی کے لیے چینی معیشت کی اہمیت کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چین کے زیر اہتمام دی بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون میں شرکت کیے حوالے سے بلند توقعات کااظہار کرتے ہوئےپاک- چین تعلقات کی ترقی کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا ۔ ان کی رائے میں دونوں ممالک کی مشترکہ کاوشوں سے پاک -چین اقتصادی راہداری مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے اور اس میں مزید پیش رفت بھی ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔