ہومپاکستانپاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے موافق نظام کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے: مسعود خان

پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے موافق نظام کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے: مسعود خان

واشنگٹن:امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ ملک میں ماحولیاتی تبدیلی کے موافق نظام کے قیام کے ضمن میں پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین الائنس اور کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر جیسے حالیہ اقدامات سے ایک ایسا فریم ورک تشکیل پائے گا جس سے کسان مستفید ہوگا اور آبی وسائل کا موثر تحفظ، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور گندم، چاول اور کپاس جیسی اہم فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم قابل تجدید ذرائع توانائی کی جانب منتقلی، آبی وسائل کے تحفظ اور ان کے موثر استعمال کے ضمن میں پاک امریکہ شراکت داری سے استفادہ کریں گے۔
انہوں نے یہ بات بیکر انسٹی ٹیوٹ رائس یونیورسٹی ہیوسٹن میں منعقدہ ایک مباحثے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہی جو پاکستان میں توانائی اور آبی وسائل کے منظر نامے کے حوالے سے منعقد کیا گیا۔۔ امریکی پالیسی سازوں، تھنک ٹینک کمیونٹی کے اراکین، دانشوروں اور شعبے سے متعلقہ ماہرین نے بحث میں حصہ لیا۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ نظام موسموں کی شدت کے حوالے سے حساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد سے ہم نے آبی وسائل کے تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی طرف منتقلی، استعمال شدہ پانی کے انتظام اور پانی کی پیمائش کے حوالے سے اصلاحاتی عمل شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی اور آبی وسائل کے تحفظ کے شعبوں میں درپیش سنگین چیلنجوں سے بخوبی آگاہ ہے اور توانائی کی پیداوار میں تنوع لانے کے حوالے سے مستقل اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ دہائی میں پاکستان نے 10 گیگا واٹ سے زیادہ نئی بجلی کی پیداوار اور 1 گیگا واٹ ہوا اور شمسی توانائی پر مبنی منصوبے شروع کیے ہیں۔ تاہم خلا اب بھی بہت وسیع ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے انرجی مکس کو مزید متنوع بنانے اور مقامی وسائل پر توجہ دے کر تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔
مسعود خان نے اس امر کو اجاگر کیا کہ متبادل توانائی، خاص طور پر ہوا اور شمسی ذرائع سے حاصل شدہ توانائی، کی صنعت پاکستان میں ترقی کر رہی ہے اور یہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک طویل المدتی قابل عمل حل ہو سکتی ہے۔
زراعت، پانی اور توانائی کے شعبوں میں پاک امریکہ شراکت داری کی ٹھوس بنیادوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر پاکستان مسعود خان نے کہا کہ ملک زرعی شعبے اور آبی وسائل کے موثر انتظام کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں امریکی نجی شعبے کی دلچسپی ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے خواہ وہ آزادانہ طور پر ہے یا یو ایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کے ذریعے سامنے آ رہی ہے۔ امریکی توانائی اور زرعی ٹیکنالوجی کی درآمد اور امریکہ کے تعاون سے گرین ٹیکنالوجیز کی پیداوار ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
دوطرفہ روابط اور یونیورسٹی سے یونیورسٹی پارٹنرشپ خاص طور پر زرعی یونیورسٹیوں کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے لئے کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ ایگری ٹیک کے شعبے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان رابطہ ہے جو کہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن یہ مزید فروغ پائے گا۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور د یتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ پانی اور انرجی سیکیورٹی اور علاقائی استحکام کی کلید ہے۔
بھارتی زیر کنٹرول دریاؤں کے بالائی حصوں پر متعدد ڈیموں کی تعمیر اعتماد کو ختم کرتی ہے اور پاکستان کے لیے بے شمار بحرانوں کو جنم دیتی ہے جس میں سیلاب، خشک سالی، پانی کی کمی اور توانائی کی فراہمی میں خلل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرینہ مسائل کو جلد اور مستقل طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔