الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہیکہ ایک دن میں بلدیاتی الیکشن کرانیکے حکم پر عمل درآمد ناممکن تھا، عدالت نے الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے حکومت سے پوچھا کہ کون سا پاپولیشن بم پھٹا کہ یونین کونسلز (یوسیز) بڑھانی پڑیں؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بینچ نے بلدیاتی انتخابات کیس میں وفاق، الیکشن کمیشن اور دیگر انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال کی جانب سے سماعت ملتوی کرنیکی استدعا مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔
الیکشن کمیشن کے وکیل میاں عبدالرف نے کہا کہ بل کو پارلیمنٹ نے منظورکیا، صدر کو دستخط کے لیے بھجوایا گیا، میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا طریقہ بھی تبدیل کیا گیا، اس لیے فوری الیکشن نہ کرانیکا فیصلہ کیا گیا،ایک دن میں بلدیاتی الیکشن کرانے کے حکم پر عمل درآمد ناممکن تھا، اس کے باوجود حکومت کو لاجسٹک کی فراہمی کاخط لکھا مگر جواب ملا کہ اتنے مختصر وقت میں انتظامات کرنا ممکن نہیں، ہم سات سے دس دنوں میں الیکشن کراسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک بل پاس ہو کر ایکٹ نہیں بنے گا اسے قانون نہیں صرف بل ہی کہا جائیگا، ابھی جو قانون ہی نہیں بنا تو پھر اس پر کیسے انحصار کرسکتے ہیں؟ کیا ہم پارلیمنٹ میں قانون سازی کا انتظار کریں؟
عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دییکہ آپ نے حکومت سے پوچھا کہ کون سا پاپولیشن بم پھٹا کہ یونین کونسلز بڑھانی پڑیں؟ تین مہینے میں کیا ایسا ہوگیا کہ یونین کونسلز کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125کردی گئی؟عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اگرالیکشن کرانا چاہتا ہے تواس نے انٹراکورٹ اپیل کیوں دائرکی ہے؟ عدالت نے انٹراکورٹ اپیلوں پر مزید سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی۔
