ہومپاکستانایل سیز نہ کھلنے سے جوٹ ملوں کو خام مال ملنا بند، درآمدی گندم کی ترسیل رکنے کا خدشہ

ایل سیز نہ کھلنے سے جوٹ ملوں کو خام مال ملنا بند، درآمدی گندم کی ترسیل رکنے کا خدشہ

کراچی: جوٹ ملوں کو خام مال کی درآمد کے لیے ایل سی کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے درآمدی گندم کی ترسیل رکنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

پاکستان جوٹ ملز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے نام ایک ہنگامی مراسلے میں اپیل کی ہے کہ جوٹ ملوں کے بنگلہ دیش سے درآمد کی جانے والی خام جوٹ کی امپورٹ کے لیے ایل سی کھولنے کی فوری اجازت دی جائے۔ اہم اور بنیادی اشیاء کی فہرست میں شامل ہونے کے باوجود جوٹ کی درآمد کے لیے ایل سی کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے ملک میں گندم اور دیگر اجناس کی ترسیل معطل ہونے جبکہ پاکستان سے اجناس کی ایکسپورٹ معطل ہونے کا خدشہ ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ جوٹ ملیں خام جوٹ (زیادہ تر بنگلہ دیش سے) درآمد کرکے اس کے تھیلے بناتی ہیں جو پاکستان میں اجناس بالخصوص گندم کی پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں،اس وقت جوٹ ملیں پاسکو کو جوٹ کے تھیلے فراہم کررہی ہیں جو درآمدی گندم کی پیکنگ کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں پاسکو نے جوٹ ملوں کو اضافی آرڈر بھی دیے ہیں جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بھی گندم کے آنے والے سیزن کے لیے جوٹ کے تھیلوں کی خریداری کے ٹینڈر جاری کردیے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جوٹ ملز ایسوسی ایشن کی ارکان ملیں پاسکو کی اضافی طلب کے ساتھ تمام صوبائی فوڈ ڈپارٹمنٹس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دن رات کوششوں میں مصروف ہیں، جوٹ انڈسٹری کو اسٹیٹ بینک کے 27 دسمبر کو جاری کردہ بنیادی امپورٹس کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جوٹ کے تھیلے برآمد بھی کیے جاتے ہیں نئی سرمایہ کاری کی بدولت پاکستانی جوٹ ملیں بھارت اور بنگلہ دیش سے مسابقت کررہی ہیں جبکہ آسٹریلیا، مصر، ترکی، امریکا، نیدرلینڈ، اٹلی، سوڈان، عراق اور ساؤتھ امریکا کے ملکوں کو جوٹ سے بنے تھیلے ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔