اسلام آباد(سب نیوز)ایف آئی اے کا چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے نام خط ،اعظم سواتی کی گرفتاری سے باضابطہ آگاہ کردیا ۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے چیئرمین سینیٹ کو اعظم سواتی کی گرفتاری سے باضابطہ آگاہ کردیا
خط کے ساتھ ایف آئی آر کی کاپی بھی بھجوائی گئی ہے ۔خط میں لکھا ہے کہ مناسب کارروائی کے بعد اور مجاز حکام سے اجازت کے بعد،ملزم اعظم سواتی کو مورخہ 27 نومبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم خان سواتی کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد کی ٹیم نے ان کے فارم ہاؤس پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا۔ اعظم سواتی کے خلاف متنازعہ ٹویٹ پر ایف آئی اے سائبر کرائم میں مقدمہ درج ہے۔
سینیٹر اعظم سواتی نے گرفتاری کے دوران ایف آئی اے ٹیم سے مکالمے میں کہا کہ ایف آئی اے کے افسر ایاز میرے مجرم ہیں میں انھیں یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔
اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ مجسڑیٹ نے وارنٹ دیا میں تقریر ختم کی سیدھا گھر آیا ہوں بھاگنے والا نہیں، کے پی کے نہیں گیا، ظلم کے خلاف رول آف لا کے حق میں نکلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈائریکٹ باجوا سےآرڈر لیتے ہیں، پہلے مجھے بے لباس کیا، وہ ملوث ہیں، میرے خاندان کے ساتھ جو کیا میں وکلا سے کہتا ہوں، سینیٹرز سے کہتا ہوں بلکہ دنیا سے کہتا ہوں نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ رول آف لا یہ ہے، یہ وارنٹ لیکر آئے میں خود تھانے جانے کے لیے تیار ہوں، لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں ہے اس کے بعد تشدد کریں بے لباس کریں۔
اعظم سواتی نے مزید کہا کہ میں ملک بھر کی خواتین سے کہتا ہوں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں تاکہ پھر کسی سینیٹر کو 74 سالہ شہری کو اس طرح بے لباس نہ کیا جائے، اس طرح اس کی فیملی کوخوار نہ کیا جائے اس لیے یہ جنگ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا، اس کا طریقہ یہ مجھے گرفتار کرکے مجسڑیٹ کے سامنے پیش کریں اپنی تفتیش کریں ہر طرح سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ سیکٹر کمانڈر کے بدمعاشوں کو لیکر آئیں، اس کے حکم پر چلیں، قطاً ایسا نہی ہوگا۔ اعظم سواتی اپنا موقف ریکارڈ کرانے کے بعد ایف آئی اے ٹیم کے ساتھ چلے گئے۔
