اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف ازخودنوٹس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے،پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں، عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرونا چاہتا ہوں، 21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر دو رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا ، کل پارٹی کی ہدایات نہیں لی تھی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم درخواست گزاروں کو پہلے سنا چاہتے ہیں ،اگر کو ئی سٹیٹمنٹ دینا چاہتا ہے تو دے دے ۔ وکیل بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 21 مارچ کے 2022 کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں ،
اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی ،کسی رکن اسمبلی کو آنے سے نہیں روکا جائے گا ،بابر اعوان سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اتحادی جماعتوں نوٹس نہیں کیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں بہت رش ہے،عدالت کے باہر لابی میں سپریم کورٹ کی پروسیڈنگ کو سنا جا سکتا ہے، پیچھے کھڑے لوگ عدالت سے باہر چلے جائیں۔بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی طرف سے بیان دے رہا ہوں کہ ہم الیکشن کے لئے تیار ہیںجس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے۔سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عدالت پر اعتماد نہیں تو ہم اٹھ جاتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ عدالت پر اعتماد ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ پر آج ہی مناسب حکم جاری کرینگے۔فاروق نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے، عدم اعتماد کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں۔
