اسلام آباد،حکومتی دعوے ہوا ہوگئے،ملک میں مہنگائی کا راج ،ایک ہفتے کے دوران بیشتر اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مہنگائی کا پارہ 19 فیصد کی سطح عبور کرگیا ہے،اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ بھی 181روپے سے زائد ہونے کے بعد ایک بار پھر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ماہانہ 17 ہزار تک کمانے والوں کیلئے مہنگائی 21 فیصد تک پہنچ گئی ،17اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک ہفتے کے دوران بجلی، دالیں،کیلے اورلکڑی مہنگی ہوگئی۔ادارہ شماریات کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں ہفتے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 پیسے کا اضافہ ہوا، ایک ہفتے کے دوران دال مسور کی فی کلو قیمت میں 7روپے 98 پیسے اضافہ ہوا،دال مسور کی فی کلو قیمت 194 سے بڑھ کر 202روپے 20 پیسے کی ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق گرم مصالحہ کی فی کلو قیمت میں 3روپے 17 پیسے اضافہ ہوا، رواں ہفتے لکڑی کی فی من قیمت میں 7روپے 12پیسے کا اضافہ ہوا جبکہ رواں ہفتے 15اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی۔اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آلو 8 روپے 74پیسے فی کلو سستے ہوئے، رواں ہفتے برائلر مرغی کی فی کلو قیمت میں 12روپے 39 پیسے ، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 10روپے 77 پیسے کی کمی ہوئی جبکہ تازہ دودھ ،دہی ،کوکنگ آئل سمیت 19 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا۔دوسری طرف اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ 181 روپے سے زائد ہونے کے بعد ایک بار پھر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں کمی اور درآمدی شعبوں کی ڈیمانڈ برقرار رہنے کے باعث جمعہ کو زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی اڑان جاری رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 178 روپے اور اوپن مارکیٹ ریٹ 181 روپے سے تجاوز کرکے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ہی ڈالر کی قدر 22 پیسے کے اضافے سے 178 اعشاریہ20 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 6 پیسے کے اضافے سے 178 اعشاریہ04 روپے کی سطح پر بند ہوئے جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1 اعشاریہ60 روپے کے اضافے سے 181 اعشاریہ50 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔
حکومتی دعوے ہوا ہوگئے، مہنگائی کا پارہ 19 فیصد کی سطح عبور کرگیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
