ملک کی مجموعی اقتصادی اور سماجی ترقی کے عمل میں کاربن پیک اور کاربن نیوٹرل کے اہداف کو شامل کیا جائے گا، ملک میں آلودگی اور کاربن دونوں کے اخراج کو کم کیا جائے گا، سبز اور کم کاربن والی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے ایک جامع منتقلی کو فروغ دیا جائے گا،جدت کا ایک ایسا ماڈل حاصل کیا جائے گا جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہو،چین کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع وائٹ پیپر
بیجنگ (ما نیٹر نگ ڈیسک ) چین نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث درپیش چیلنجز حقیقی، سنگین اور دیرپا ہیں ، ملک کی مجموعی اقتصادی اور سماجی ترقی کے عمل میں کاربن پیک اور کاربن نیوٹرل کے اہداف کو شامل کیا جائے گا، ملک میں آلودگی اور کاربن دونوں کے اخراج کو کم کیا جائے گا، سبز اور کم کاربن والی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے ایک جامع منتقلی کو فروغ دیا جائے گا،جدت کا ایک ایسا ماڈل حاصل کیا جائے گا جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ بدھ کو چین کی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس نے ایک وائٹ پیپر جاری کیا جس کا موضوع “موسمیاتی تبدیلی کا جواب: چین کی پالیسیاں اور اقدامات” ہے ۔اس وائٹ پیپر میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں چین کے اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس دستاویز کی مدد سے چین کے کامیاب تجربے اور نقطہ نظر کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیا جاسکے گا۔ مذکورہ وائٹ پیپر دیباچے اور خلاصے کے علاوہ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ ان میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے چین کا نیا ردعمل، موسمیاتی تبدیلی سے فعال طور پر نمٹنے کے لیے چین کی قومی حکمت عملی کا نفاز، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے چین کے ردعمل میں اہم تبدیلیاں اور مشترکہ مفاد پر مبنی نتائج کے لیے ایک منصفانہ اور معقول عالمی موسمیاتی گورننس سسٹم کی تعمیر شامل ہیں۔ وائٹ پیپر کے مطابق چین ایک جامع معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر میں کامیابی کے بعد اب ایک جدید ملک کی تعمیر اور قومی نشا ثانیہ کے حصول کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ اعلی معیار کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹا جائے، یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو نہ صرف چینی عوام بلکہ دنیابھر کے عوام کی فلاح و بہبود پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ وائٹ پیپر کے مطابق چین ترقی کے ایک نئے مرحلے کی جانب آگے بڑھتے ہوئے نئے ترقیاتی فلسفے پر عمل پیرا ہو گا اور اعلی معیار کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا ترقیاتی محرک اپنائے گا۔ کاربن اخراج میں کمی کے ساتھ ماحولیاتی ترقی کو ایک اہم اسٹریٹجک ہدف کے طور پر لیا جائے گا، ملک کی مجموعی اقتصادی اور سماجی ترقی کے عمل میں کاربن پیک اور کاربن نیوٹرل کے اہداف کو شامل کیا جائے گا۔ ملک میں آلودگی اور کاربن دونوں کے اخراج کو کم کیا جائے گا، سبز اور کم کاربن والی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے ایک جامع منتقلی کو فروغ دیا جائے گا اور جدت کا ایک ایسا ماڈل حاصل کیا جائے گا جس میں انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ وائٹ پیپر کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث درپیش چیلنجز حقیقی، سنگین اور دیرپا ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پوری بین الاقوامی برادری کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ چین اس حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا اور کثیرالجہتی کی حمایت جاری رکھے گا۔ چین دیگر فریقوں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن اور پیرس معاہدے کے جامع، متوازن، موثر اور پائیدار عمل درآمد کی جستجو کرے گا۔ چین بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کی تعمیر کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کرے گا، اور پوری انسانیت کے لیے ایک بہترین کرہ ارض کی خاطر اپنی حتی الوسع شراکت کرے گا۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث درپیش چیلنجز حقیقی، سنگین اور دیرپا ہیں ، چین
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
