اسلام آباد (سب نیوز)گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل اور ڈاکٹر اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال، یاسر خان نیازی نے کہا ہے کہ پاکستان کو صحت اور طبی تعلیم کے شعبوں میں درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان شعبوں کو عوام کے لیے سستا اور قابلِ رسائی بنانے کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کے قابل بنا کر ملکی معیشت کے لیے آمدن کا اہم ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔اسلام آباد پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیاری سہولیات کی فراہمی، علاج اور تعلیم کے اخراجات میں کمی اور مالی وسائل کی پائیداری کے لیے عملی اقدامات اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مثر شراکت داری ناگزیر ہے۔حکومت کی جانب سے انشورنس پروگراموں کے ذریعے عوام کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے یاسر نیازی نے کہا کہ اس کے باوجود علاج کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ عوام اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔ عالمی ادار صحت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، جو عالمی بینک کے ذریعے شائع کیے گئے ہیں، 2023 میں پاکستان کے مجموعی طبی اخراجات کا 53 فیصد عوام نے خود برداشت کیا۔
یہ صورتِ حال عوام کو علاج کے بھاری اخراجات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے انشورنس کی سہولیات وسیع کرنے کی ضرورت واضح کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ہیلتھ انشورنس پروگراموں میں علاج کی سہولت زیادہ تر ہسپتال میں داخلے تک محدود ہے، جبکہ مریضوں کی بڑی تعداد کو ڈاکٹر سے معائنے، تشخیصی ٹیسٹ، ادویات اور بعد از علاج دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انشورنس کا دائرہ بیرونی مریضوں کے شعبے (او پی ڈی)، ابتدائی تشخیص اور بیماریوں سے بچا تک بڑھایا جانا چاہیے، تاکہ لوگ بروقت علاج کروا سکیں اور بیماریوں کو سنگین ہونے سے پہلے قابو میں لایا جا سکے۔طبی تعلیم کے حوالے سے یاسر نیازی نے کہا کہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طلبہ کی بڑی تعداد کے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے سے خاندانوں پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے اور ملک کا قیمتی زرمبادلہ بھی باہر جا رہا ہے۔ بعض ممالک میں طبی تعلیم کے معیار اور وہاں سے حاصل ہونے والی اسناد کی بین الاقوامی قبولیت کے حوالے سے بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیاری طبی تعلیم کو کم خرچ بنانے، تعلیمی اداروں کے معیار اور اسناد کی منظوری کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ پاکستانی طلبہ کو اپنے ملک میں بہتر مواقع ملیں اور غیر ملکی طلبہ بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب ہوں۔پاکستان کے لیے معاشی مواقع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو صحت اور تعلیم کے شعبوں کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور ان سے زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ حکمتِ عملی بنانی چاہیے۔ طبی سیاحت کے فروغ کے لیے عالمی معیار کی طبی سہولیات، جدید تشخیصی نظام، خصوصی علاج اور بیرونِ ملک مریضوں کی رہنمائی و دیکھ بھال کے مثر انتظامات ضروری ہیں۔
اسی طرح میڈیکل کالجز اور جامعات میں معیاری تعلیم، بین الاقوامی معیار کے مطابق نگرانی اور مناسب فیسوں کے ذریعے پاکستان کو غیر ملکی طلبہ کے لیے ایک پرکشش تعلیمی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے علاج کے لیے آنے والے مریضوں اور تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی مالی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مناسب پالیسی کے تحت اس آمدن کا کچھ حصہ مقامی مریضوں کے علاج کے اخراجات کم کرنے اور پاکستانی طلبہ کو کم فیس پر معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے بین الاقوامی آمدن کے فوائد عام شہریوں تک بھی پہنچ سکیں گے۔یاسر نیازی نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے درمیان تعاون مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی میں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور متعلقہ صنعتوں کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ غیر ضروری ضابطہ جاتی پیچیدگیاں اور انتظامی رکاوٹیں دور کرکے ایسے مستقل اور قابلِ عمل قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں جو معیار، شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کے ساتھ نجی شعبے کی ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور جدت کی حوصلہ افزائی کریں۔اس موقع پر یاسر نیازی نے جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے تحت صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو رعایتی نرخوں پر طبی سہولیات فراہم کرنے میں تعاون کی پیشکش کی۔ انہوں نے اسلام آباد پریس کلب میں صحت سے متعلق آگاہی کے باقاعدہ سیشنز اور وقتا فوقتا طبی کیمپ منعقد کرنے کی تجویز بھی دی، جہاں بیماریوں سے بچا، ابتدائی علامات کی شناخت، بروقت علاج، اسکریننگ اور تشخیصی ٹیسٹوں کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صحت اور طبی تعلیم کے شعبوں کو محض سرکاری اخراجات پر انحصار کرنے والے شعبوں کے بجائے معاشی ترقی اور زرمبادلہ کے حصول کے اہم ذرائع کے طور پر بھی ترقی دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ ملک اپنے عوام کو کس حد تک معیاری اور سستی سہولیات فراہم کرتا ہے اور اپنے اداروں کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بناتا ہے۔
