کوئٹہ (آئی پی ایس )بلوچستان حکومت نے محکمہ صحت میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری کا نظام متعارف کرانے کے بعد مسلسل غیر حاضر رہنے والے مزید 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، جس کے بعد برطرف ملازمین کی مجموعی تعداد 200 ہوگئی ہے۔ حاضری اور نظم و ضبط کے قواعد کی خلاف ورزی پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے اب تک 41 کروڑ روپے کی کٹوتیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ 11 ہزار ملازمین سے وضاحت طلب کرنے کے علاوہ مزید 800 ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی جاری ہے۔
ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہاکہ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ محکمہ صحت میں مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ مسلسل غیر حاضر رہنے والے مزید 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے، جس کے بعد برطرف کیے گئے ملازمین کی مجموعی تعداد 200 ہوگئی ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب تک حاضری اور نظم و ضبط کے قواعد کی خلاف ورزی پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے مجموعی طور پر 41 کروڑ روپے کی کٹوتیاں کی جا چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حاضری اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 11 ہزار ملازمین سے وضاحت طلب کی گئی ہے، جبکہ مزید 800 سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی جاری ہے۔
وزیراعلی بلوچستان نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں اور حکومت کسی کو گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے حاضری کی نگرانی کے نظام کے نتائج سامنے آ رہے ہیں اور غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
