سلام آباد(سب نیوز) اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل اسد الرحمن افضل چیمہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں اسپیشل اکنامک زون کے قیام کے لیے موزوں زمین کی نشاندہی کا عمل پنجاب حکومت کے مشورے سے جاری ہے اور امید ہے کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کر لیا جائے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا، جس کی قیادت چیمبر کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیا کر رہے تھے۔ وفد نے انہیں اسلام آباد کی کاروباری برادری کو درپیش اہم مسائل سے آگاہ کیا اور صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وفد میں سینئر نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ اور سیکرٹری جنرل غلام مرتضی بھی شامل تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل اسد الرحمن افضل چیمہ نے وفد کے تحفظات اور تجاویز کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ مسائل کے حل کے لیے انہیں متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اپنے انتظامی اور ریگولیٹری مسائل کے فوری حل کے لیے ایس آئی ایف سی پورٹل کے ذریعے شکایات درج کرا سکتی ہے، جنہیں ضروری کارروائی اور حل کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں اور اداروں کو بھجوایا جاتا ہے۔انہوں نے اسلام آباد کے نواح میں جدید طرز کے نمائشی مرکز (ایگزیبیشن سینٹر)کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سہولت تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر نے کراچی انڈسٹریل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کا بھی ذکر کیا اور کاروباری برادری کو وہاں دستیاب سہولیات اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دی۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیا نے اسلام آباد میں جدید صنعتی اسٹیٹ کے قیام کے لیے موزوں اراضی مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے مقامی کاروباری اداروں کو صنعتی توسیع، نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کے ایگزیبیشن اور کنونشن سینٹر کے قیام کی اہمیت بھی اجاگر کی، جہاں قومی اور بین الاقوامی نمائشوں کا انعقاد کیا جا سکے، پاکستانی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے، برآمدات کو فروغ ملے اور مقامی کاروباری اداروں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے بہتر مواقع میسر آئیں۔کاروباری ماحول کو متاثر کرنے والے پالیسی اور ریگولیٹری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قرضوں کی وصولی سے متعلق ضوابط اور بندرگاہوں کے بھاری چارجز کی نشاندہی کی، جو کاروباری برادری کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقتصادی پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام ناگزیر ہے۔ پاکستان کو کم از کم دس سالہ واضح اور مستقل اقتصادی پالیسی فریم ورک اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو، طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور کاروباری ادارے اپنے مستقبل کے منصوبے موثر انداز میں تشکیل دے سکیں۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)سے متعلق مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف انتظامی اور ریگولیٹری رکاوٹیں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی ترقی میں بھی حائل ہو رہی ہیں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ آئی سی سی آئی کے مختلف کاروباری اور صنعتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد آئندہ ہفتے ایس آئی ایف سی کا دورہ کرے گا، جہاں اسے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے، سرمایہ کاری کے فروغ اور نجی شعبے کے مسائل کے حل کے لیے کونسل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور سہولت کاری کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔اس موقع پر ایس آئی ایف سی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ساجد امین، کرنل محمد حفیظ اور کونسل کے دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔
