تحریر: محمد محسن اقبال
کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید گاڑیوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہاں خواتین کو کتنی آزادی، سہولت اور تحفظ حاصل ہے۔ پاکستان میں موٹر سائیکل اور الیکٹرک اسکوٹی چلاتی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک ایسی سماجی تبدیلی کی علامت ہے جو خاموشی سے ہمارے معاشرتی تصورات کو بدل رہی ہے۔ یہ محض سواری کے انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ خودانحصاری، معاشی خودمختاری اور زندگی کے فیصلے خود کرنے کے حق کا اظہار ہے۔ تاہم اس تبدیلی کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو سڑکوں پر آزادی کے ساتھ تحفظ اور عزت بھی میسر ہو۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ایک مرتبہ پھر اہم معاشی مسئلہ بنا دیا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست سفری اخراجات اور گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں الیکٹرک اسکوٹی نسبتاً کم خرچ ذریعہ آمدورفت کے طور پر اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ بالخصوص طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کے لیے یہ سہولت محض اخراجات میں کمی نہیں بلکہ وقت کی بچت، خوداعتمادی اور دوسروں پر انحصار سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں خواتین تعلیمی اداروں، دفاتر اور بازاروں تک پہنچنے کے لیے الیکٹرک اسکوٹیز استعمال کر رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے انتظار، غیر یقینی سفری اوقات اور مہنگی آن لائن ٹیکسی سروسز سے نجات ان کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔ ایک طالبہ کے لیے اس کا مطلب تعلیم تک آسان رسائی اور ایک ملازمت پیشہ خاتون کے لیے وقت اور آمدنی کی بہتر بچت ہو سکتا ہے۔ یوں دو پہیوں کی یہ سواری خواتین کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ ان کی معاشی اور سماجی شرکت کے امکانات بھی وسیع کرتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً ویتنام، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور بھارت میں خواتین طویل عرصے سے موٹر سائیکلوں اور اسکوٹیز کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکی ہیں۔ وہاں یہ سواریاں تعلیم، ملازمت اور گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی میں معاون ہیں۔ الیکٹرک ماڈلز نے روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کا ایک نیا راستہ بھی فراہم کیا ہے۔ پاکستان میں اس رجحان کا فروغ بھی شہری زندگی میں ایک مثبت تبدیلی ہے، مگر اس کے لیے صرف سواریوں کی فراہمی کافی نہیں، سماجی رویّوں اور شہری سہولتوں میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔
بدقسمتی سے خواتین کو سڑکوں پر بعض غیر ذمہ دار افراد کے نامناسب رویّوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نازیبا جملے، بلاوجہ ہارن بجانا، خطرناک انداز میں آگے نکلنا، راستہ روکنا اور ہراساں کرنا ایسے عوامل ہیں جو ایک عام سفر کو خوف اور ذہنی دباؤ میں بدل دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ناخوشگوار واقعہ ہی کسی خاتون کو دوبارہ موٹر سائیکل چلانے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کا نقصان صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی تعلیم، ملازمت اور معاشی خودمختاری بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سڑکیں ہر شہری کے لیے یکساں ہیں۔ ایک خاتون کا موٹر سائیکل چلانا نہ کسی کی توجہ حاصل کرنے کی دعوت ہے اور نہ ہی کسی سماجی یا قانونی اصول کی خلاف ورزی۔ اگر مرد کو اپنی مرضی سے سفر کرنے کا حق حاصل ہے تو عورت بھی اسی حق کی مستحق ہے۔ ہراسانی کی ذمہ داری اس کا ارتکاب کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ اس خاتون پر جو اپنی سہولت کے لیے خود سفر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جو معاشرہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر فعال دیکھنا چاہتا ہے، اسے ان کے لیے محفوظ ماحول بھی فراہم کرنا ہوگا۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو محض اعلانات اور اخلاقی نصیحتوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ‘ویمن آن ویلز’ جیسے تربیتی پروگراموں کا دائرہ بڑے شہروں سے بڑھا کر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں تک پھیلایا جائے۔ خواتین کو موٹر سائیکل چلانے، ٹریفک قوانین، ہنگامی بریک لگانے اور محفوظ ڈرائیونگ کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔ جہاں ممکن ہو، خواتین انسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کی جائیں۔ معیاری ہیلمٹ، روشنیاں، سائیڈ مررز اور دیگر حفاظتی سامان کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا جائے۔
جدید ٹیکنالوجی بھی خواتین کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ الیکٹرک اسکوٹی یا ہیلمٹ کے ساتھ ایسا ہنگامی بٹن منسلک کیا جا سکتا ہے جو خطرے کی صورت میں خاتون کی لوکیشن پولیس یا متعلقہ امدادی مرکز تک پہنچا دے۔ اسے سیف سٹی منصوبوں اور پولیس ہیلپ لائنز سے منسلک کرنے سے فوری مدد کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ شکایات پر فوری کارروائی، ذاتی معلومات کے تحفظ اور پولیس کے مؤثر ردعمل پر ہوگا۔
ٹریفک پولیس کو بھی خواتین کے خلاف ہراسانی، خطرناک ڈرائیونگ اور جان بوجھ کر راستہ روکنے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ شکایات درج کرنے اور ان کی تحقیقات کا مؤثر نظام موجود ہونا ضروری ہے۔ سڑکوں پر مناسب روشنی، بہتر تعمیر، منظم ٹریفک اور پولیس کی مؤثر گشت تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔ حکومت کو خواتین موٹر سائیکل سواروں سے متعلق حادثات اور ہراسانی کے واقعات کا مستند ریکارڈ بھی مرتب کرنا چاہیے تاکہ آئندہ پالیسی سازی حقائق کی بنیاد پر ہو۔
پاکستان کا آئین ہر شہری کی عزت، مساوات اور شخصی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصولوں کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے۔ خواتین کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے ایک جامع پالیسی تشکیل دی جا سکتی ہے جس میں ٹرانسپورٹ کے محکمے، پولیس، مقامی حکومتیں اور خواتین کے تحفظ کے ادارے مشترکہ کردار ادا کریں۔ مفت یا رعایتی الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی کے ساتھ تربیت، لائسنس، حفاظتی سامان اور ہنگامی امداد کا انتظام بھی اس پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ خواتین میں اسکوٹیز تقسیم کر دینا ہی کامیابی نہیں۔ اگر ایک طالبہ کو سواری تو مل جائے مگر وہ سڑک پر نکلتے ہوئے خوف محسوس کرے تو اس سہولت کا بنیادی مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ خواتین کو تحفظ کے نام پر گھروں تک محدود رکھنا یا انہیں عوامی سڑکوں سے گریز کا مشورہ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ذمہ داری معاشرے اور ریاست کی ہے کہ وہ سڑکوں کو محفوظ بنائیں اور ہراسانی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک الیکٹرک اسکوٹی بظاہر دو پہیوں اور ایک بیٹری کا مجموعہ ہے، مگر ایک طالبہ کے لیے یہ حصولِ علم کا راستہ، ایک ملازمت پیشہ خاتون کے لیے معاشی خودمختاری اور ایک عام عورت کے لیے روزمرہ زندگی کی آسانی بن سکتی ہے۔ اس کے پہیے صرف سڑک پر نہیں گھومتے بلکہ ایک ایسی سوچ کو بھی آگے بڑھاتے ہیں جس میں عورت کو اپنی منزل کے انتخاب کا حق حاصل ہو۔ پاکستان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں موٹر سائیکل اور اسکوٹی کا استعمال ایک خوش آئند تبدیلی ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی اس دن ہوگی جب کوئی خاتون گھر سے نکلتے ہوئے ہراسانی یا خوف کے بجائے اپنی منزل اور اپنے خوابوں کے بارے میں سوچے۔ ترقی کا تقاضا یہی ہے کہ خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع دینے کے ساتھ ان کے سفر کو محفوظ، باوقار اور بااعتماد بھی بنایا جائے۔
