ہومپاکستانپاکستان کی سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی میں نوجوان کاروباری رہنماؤں کا کردار کلیدی ہے، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

پاکستان کی سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی میں نوجوان کاروباری رہنماؤں کا کردار کلیدی ہے، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے ینگ سی ای اوز، انٹرپرینیورز اینڈ انوویٹرز ایونٹ، ایکسپو اینڈ ایوارڈز (YES 2026) کی اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نوجوان کاروباری رہنماؤں، جدت پسندوں اور ابھرتے ہوئے صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ ’’پائیدار مستقبل کے لیے قیادت، جدت اور کاروباری صلاحیت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مضبوط کاروباری نمو، مسلسل سرمایہ کاری اور انسانی ترقی پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔

وفاقی وزیر نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ٹاسک فورس برائے بزنس انکیوبیشن سینٹرز اور بحریہ یونیورسٹی کو اس اہم قومی تقریب کے انعقاد پر سراہا، جس نے نوجوان کاروباری افراد، جدت پسندوں، جامعات اور پالیسی سازوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے خیالات، عزم اور کاروباری صلاحیت ملک کے معاشی مستقبل کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

قیصر احمد شیخ نے اپنے خاندان کے چھ نسلوں پر محیط کاروباری تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو کاروبار، جدت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سی ای اوز اور کاروباری افراد کے ساتھ اس نوعیت کے مکالمے اور تقریبات کا انعقاد زیادہ کثرت سے ہونا چاہیے تاکہ تجربہ کار کاروباری شخصیات، نوجوان صنعت کاروں، تعلیمی اداروں اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون فروغ پا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے کاروباری سرگرمیوں میں اضافے، پیداواری صلاحیت کو وسعت دینے، برآمدات بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستحکم کاروباری ماحول اور مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر کوئی بھی ملک پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری سے سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی، بہتر پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا فروغ صنعتی بنیاد کو مضبوط، برآمدات کو وسیع اور ملکی معیشت کو مستحکم کرتا ہے۔

پاکستان کی معاشی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں نمایاں معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو دنیا کی کامیاب معیشتوں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی، پالیسیوں کے تسلسل اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے چین کی معاشی ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین نے مسلسل کئی دہائیوں تک غیر معمولی معاشی نمو حاصل کی اور آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا اور دیگر ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کے تجربات سے بھی اہم سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن ممالک نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبہ بندی کے تجربات سے استفادہ کیا، وہ آج معاشی ترقی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں۔

قیصر احمد شیخ نے معروف پاکستانی ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق اور ان کے ترقیاتی منصوبہ بندی کے تصورات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر معاشی منصوبہ بندی، پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی ان اصولوں کو مؤثر انداز میں اپناتے ہوئے اپنی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

نوجوانوں میں ملازمت کے روایتی رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انہیں کاروبار اور خود روزگاری کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کے شعبے میں ترقی اور کامیابی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ نوجوان اگر اپنے کاروباری منصوبوں پر محنت کریں تو نہ صرف اپنے لیے معاشی استحکام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کرکے قومی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں پاکستان کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان شعبوں میں نئی کاروباری سرگرمیاں شروع کریں، جدید حل متعارف کروائیں اور عالمی منڈیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات اور خدمات تیار کریں۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو بھی معاشی ترقی، جدت، صنعتی تنوع اور روزگار کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

پاکستان کی بڑی آبادی اور نوجوان افرادی قوت کا ذکر کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ملک کو اپنی آبادی کو معاشی بوجھ کے بجائے ایک مؤثر معاشی قوت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے معیاری تعلیم، فنی مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور پیداواری روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت سمیت متعدد بڑی آبادی رکھنے والے ممالک نے اپنی انسانی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ پاکستان بھی مؤثر حکمتِ عملی، مسلسل محنت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر نے جامعات اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز کے کردار کو نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے فاسٹ نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے چنیوٹ کیمپس سمیت معیاری تعلیمی اداروں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم غربت کے خاتمے، معاشرتی ترقی اور معاشی مواقع کی فراہمی کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

انہوں نے طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد پر زور دیا کہ وہ جامعات میں قائم انکیوبیشن سینٹرز، رہنمائی کے مواقع اور صنعتوں کے ساتھ روابط سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ ان کے تخلیقی خیالات قابلِ عمل کاروباری منصوبوں میں تبدیل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس انکیوبیشن سینٹرز نوجوانوں کو کاروباری منصوبہ بندی، سرمایہ کاروں تک رسائی، مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھنے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے جامعات میں تیار ہونے والے منصوبے مقامی سطح سے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

قیصر احمد شیخ نے حکومت کی جانب سے کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی بنیادی ذمہ داری سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو ان کے سفر کے ہر مرحلے پر معاونت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایسا شفاف، سازگار اور کاروبار دوست ماحول تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے جس میں مقامی کاروباری ادارے اور نئے کاروباری منصوبے اعتماد کے ساتھ قائم اور ترقی کر سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کا خاتمہ، طریقہ کار کو آسان بنانا اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ نوجوان کاروباری افراد کو درپیش مسائل کے حل، سرمایہ کاری کے مواقع تک رسائی اور کاروباری منصوبوں کی ترقی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے حکومت، جامعات، نجی شعبے اور مالیاتی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری شعبے کے درمیان مؤثر اشتراک سے نئے خیالات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، نوجوان کاروباری افراد کو سرمایہ اور رہنمائی فراہم کرنے اور جدید کاروباری اداروں کو ترقی دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ YES 2026 جیسی تقریبات اسی اشتراک کو فروغ دینے اور قومی ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انہیں مسلسل محنت، عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی معاشی ترقی، صنعتی وسعت، عالمی مسابقت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نوجوان کاروباری رہنماؤں کا کردار مزید اہم ہوگا۔

قیصر احمد شیخ نے نوجوان کاروباری افراد کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے کاروباری منصوبوں اور مثبت اقدامات کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے خیالات کو عملی شکل دیں، نئے مواقع تلاش کریں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکومتی اداروں سے رابطہ کرکے دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے YES 2026 کے تمام شرکاء، نامزد امیدواروں اور ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے ان کی محنت، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کے جذبے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے پلیٹ فارمز سے سامنے آنے والے نئے خیالات اور کاروباری منصوبے پاکستان کی معاشی ترقی اور کاروباری ماحول کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔