چراغِ راہ
تحریر: شاہد زمان
کیا پاکستان کے پاس اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے کوئی علمی، دینی اور ثقافتی ورثہ نہیں کہ ابتدائی بچپن کی تعلیم کے لیے بھی ہم بیرونی نصاب اور تعلیمی برانڈز کی طرف دیکھتے ہیں؟ کیا جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی زبان، تہذیب، تاریخ اور اقدار سے دور ہونا ضروری ہے؟ اور اگر ہم اپنے بچوں کی شخصیت کی بنیاد ہی کسی دوسرے معاشرے کے تعلیمی تصورات پر رکھیں گے تو ان میں اپنے معاشرے کے مسائل سمجھنے، ان کا حل تلاش کرنے اور قومی ترقی میں حصہ لینے کی صلاحیت کیسے پیدا ہوگی؟
یہ سوال آکسفورڈ یا کسی غیر ملکی ادارے کی مخالفت کا نہیں، بلکہ اپنی ترجیحات متعین کرنے کا ہے۔ ہمیں دنیا کے بہترین تعلیمی تجربات سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہیے، مگر اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا مقصد، زبان، مواد اور اقدار طے کرنے کا اختیار اپنے علمی و قومی تقاضوں کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔
آخر کب تک ہم تعلیم کے معیار کو غیر ملکی نام سے اور ذہانت کو انگریزی بولنے سے ناپتے رہیں گے؟
ابتدائی بچپن: شخصیت سازی کا بنیادی مرحلہ
ابتدائی بچپن کی تعلیم (Early Childhood Care and Education — ECCE) محض بچے کو حروف، اعداد اور انگریزی الفاظ یاد کرانے کا نام نہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں زبان، سوچ، تجسس، جذباتی توازن، باہمی تعاون، اخلاقی رویوں، جسمانی سرگرمی اور سیکھنے کی عادت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
اس عمر میں بچے کھیل، کہانی، گفتگو، مشاہدے، سوالات اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ انہیں مسلسل یاد کروانا، کتابوں کا بوجھ ڈالنا اور دوسروں سے مقابلے میں دھکیلنا ابتدائی تعلیم کا متبادل نہیں۔
ہمارے ہاں بعض اوقات والدین بچے کی کم عمری ہی میں انگریزی پڑھنے، لکھنے اور بولنے کو کامیابی کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ الفاظ تو دہرا لیتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ان کا مفہوم بھی سمجھتا ہو۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ بچہ اپنی بات واضح کر سکے، سوال پوچھ سکے، دوسروں کو سنے، مسئلہ سمجھے اور حل تلاش کرنے کی کوشش کرے۔
کیا ہمارا اپنا ورثہ نہیں؟
پاکستان کا دینی اور ثقافتی ورثہ تعلیم و تربیت کے لیے بے شمار وسائل رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں غور و فکر، علم، مشاہدے، حکمت اور اخلاقی ذمہ داری کی تعلیم دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں شفقت، سچائی، امانت، عدل، وعدے کی پابندی، مشاورت اور دوسروں کے حقوق کا احترام نمایاں ہیں۔
یہ اقدار بچوں کو محض نصیحتوں کے ذریعے نہیں بلکہ روزمرہ سرگرمیوں میں سکھائی جا سکتی ہیں۔ مثلاً:
- کہانیوں اور عملی مثالوں سے سچ بولنے اور امانت داری کی اہمیت سمجھانا۔
- کھیل کے دوران باری کا انتظار، قواعد کی پابندی اور دوسروں کے ساتھ تعاون سکھانا۔
- گھر اور اسکول میں صفائی، پانی کی بچت، پودوں کی نگہداشت اور ماحول کی حفاظت کی عادت ڈالنا۔
- مقامی لوک کہانیوں، نظموں، دستکاری، تاریخی مقامات اور قومی شخصیات سے بچوں کا تعارف کرانا۔
- مختلف زبانیں بولنے والے بچوں اور مختلف سماجی پس منظر رکھنے والے خاندانوں کے لیے احترام اور ہمدردی پیدا کرنا۔
ہماری ثقافت کوئی جامد چیز نہیں جسے بچوں پر مسلط کر دیا جائے۔ اسے زندہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ نئی نسل اپنی شناخت سے واقف ہو، اپنی روایات میں اچھائی کو سمجھے، کمزوریوں پر تنقیدی نظر ڈال سکے اور دنیا کے علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر مستقبل تعمیر کرے۔
آکسفورڈ سلیبس: مسئلہ کہاں ہے؟
غیر ملکی نصاب، کتاب یا تعلیمی نظام بذاتِ خود قابلِ اعتراض نہیں۔ دنیا کے مختلف تعلیمی نظاموں سے تدریسی طریقے، سائنسی تصورات، زبان سیکھنے کی حکمتِ عملیاں اور جائزہ لینے کے بہتر طریقے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی بیرونی نصاب کو اس کے نام یا شہرت کی بنیاد پر مقامی حالات، بچوں کی زبان، اساتذہ کی تربیت، والدین کی ضروریات اور قومی تعلیمی مقاصد کا جائزہ لیے بغیر اختیار کر لیا جائے۔
آکسفورڈ کا نام مختلف کتابوں، اشاعتی پروگراموں اور تعلیمی وسائل کے لیے استعمال ہوتا ہے؛ اس لیے ہر جگہ ’’آکسفورڈ سلیبس‘‘ کہہ کر ایک ہی نصاب مراد لینا بھی درست نہیں۔ ہر ادارے کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کون سا پروگرام استعمال کر رہا ہے، اس کے تعلیمی مقاصد کیا ہیں اور مقامی بچوں کے لیے اس کی مناسبت کتنی ہے۔
ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ اگر ایک بچہ گھر میں پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، براہوی یا کوئی دوسری زبان بولتا ہے تو کیا اس کی ابتدائی تعلیم ایسی زبان میں ہونی چاہیے جس میں وہ بنیادی بات بھی پوری طرح نہیں سمجھتا؟ کیا انگریزی سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے بچے کو اپنی مانوس زبان سے محروم کرنا ضروری ہے؟
جواب واضح ہے: انگریزی سیکھنا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن انگریزی کے ذریعے ہر چیز سیکھنا ہر بچے کے لیے ابتدائی عمر میں ضروری نہیں۔
اقوامِ متحدہ اور مادری زبان میں تعلیم
اقوامِ متحدہ کے نظام میں یونیسکو (UNESCO) طویل عرصے سے اس اصول کی حمایت کرتا آیا ہے کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم ایسی زبان میں دی جائے جسے وہ سمجھتے ہوں۔ یونیسکو کی 2025 کی رہنمائی Languages Matter: Global Guidance on Multilingual Education بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ زبان کی پالیسی بچوں کی لسانی حقیقت، تعلیمی ضروریات اور کثیر لسانی معاشرے کو سامنے رکھ کر بنائی جائے۔ اس رہنمائی میں مادری یا مانوس زبان میں بنیادی سیکھنے کی مضبوط بنیاد قائم کرنے اور اضافی زبانوں کی طرف تدریجی پیش رفت کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بچے کو صرف مادری زبان تک محدود رکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو پہلے مفہوم سمجھنے، سوال کرنے اور خیالات بیان کرنے کا موقع ملے، پھر انگریزی اور دیگر زبانوں میں مہارت بتدریج بڑھائی جائے۔
یونیسکو اور یونیسیف کے تعلیمی وسائل بھی ابتدائی بچپن اور ابتدائی خواندگی میں مانوس زبان کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں بچے مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ اردو قومی رابطے کی زبان اور انگریزی اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور عالمی روابط کے لیے اہم ہو سکتی ہے، لیکن کسی بچے کی پہلی زبان کو نظر انداز کرکے یکساں تدریسی طریقہ سب پر لاگو کرنا تعلیمی مساوات کے مقصد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پاکستان کے اپنے شواہد کیا کہتے ہیں؟
یونیسیف پاکستان کے لیے تیار کردہ ابتدائی بچپن کی تعلیم کے ماڈلز کے جائزے میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ مختلف صوبوں میں مادری زبان میں تعلیم کا نفاذ یکساں نہیں۔ رپورٹ نے ان بچوں کے لیے ابتدائی عمر میں انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے مسائل بھی بیان کیے جن کے اساتذہ یا تعلیمی وسائل انگریزی میں مؤثر تدریس کے لیے تیار نہیں تھے۔
پاکستان کے نیشنل ایجوکیشن پالیسی ڈیولپمنٹ فریم ورک 2024 میں بھی زبان، ابتدائی خواندگی اور صوبائی زبانوں کی تعلیم پر بحث موجود ہے۔ اس میں اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے کہ خواندگی کی بنیاد زبان بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر قائم ہوتی ہے۔
یہ شواہد ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف نصاب کا نہیں۔ نصاب کے ساتھ استاد کی تربیت، تدریسی زبان، کتابوں کی دستیابی، والدین کی آگاہی، بچوں کی نشوونما اور اسکول کے ماحول کو بھی دیکھنا ہوگا۔
پھر قابلِ عمل راستہ کیا ہے؟
ہمیں ایک ایسا قومی تصور اپنانا چاہیے جو پاکستان کے دینی و ثقافتی ورثے، بچوں کی زبان، جدید سائنسی علم اور مستقبل کی معاشی ضروریات کو یکجا کرے۔ اس کے لیے درج ذیل لائحۂ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔
1۔ ابتدائی عمر میں سمجھ کو ترجیح دی جائے
تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم کھیل، گفتگو، کہانی، موسیقی و نظم، مشاہدے، جسمانی سرگرمی اور عملی تجربات پر مبنی ہو۔ بچوں کو غیر ضروری امتحانات، بھاری بستوں اور رٹّے کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے۔ ہر سرگرمی کا مقصد واضح ہو: زبان، سوچ، حرکت، سماجی تعلق یا جذباتی نشوونما۔
2۔ مادری یا مانوس زبان کو بنیاد بنایا جائے
ہر اسکول داخلے کے وقت بچے کی گھر میں بولی جانے والی زبان معلوم کرے۔ جہاں ممکن ہو، ابتدائی تعلیم اسی زبان میں دی جائے۔ اگر کلاس میں کئی زبانیں بولنے والے بچے ہوں تو استاد مقامی معاون مواد، تصاویر، کہانیوں اور دو لسانی تدریس سے تمام بچوں کو مفہوم سمجھنے میں مدد دے۔
اردو اور انگریزی سے تعارف عمر کے مطابق سرگرمیوں کے ذریعے شروع کیا جا سکتا ہے، مگر بچے کی زبان کو کم تر قرار دیے بغیر۔ آگے بڑھتے ہوئے ان زبانوں میں پڑھنے، لکھنے اور علمی اظہار کی باقاعدہ مہارت پیدا کی جائے۔
3۔ اپنا ابتدائی نصابی مواد تیار کیا جائے
ہر صوبے اور علاقے کی زبان، ماحول، تاریخ اور ثقافت کو سامنے رکھ کر کہانیاں، تصویری کتابیں، نظمیں، کھیل، سرگرمیاں اور ابتدائی ریاضی و سائنس کا مواد تیار کیا جائے۔ اس میں دینی و اخلاقی اقدار، مقامی ماحول، قومی یکجہتی، صحت، صفائی، قدرتی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے عمر کے مطابق تعارف شامل ہو۔
یہ مواد صرف روایتی معلومات تک محدود نہ ہو بلکہ بچوں میں سوال کرنے، مشاہدہ کرنے، چیزوں کا موازنہ کرنے اور اپنے خیالات بیان کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرے۔
4۔ غیر ملکی نصاب کو جانچ کر اختیار کیا جائے
سرکاری و نجی اسکولوں کے لیے ایسے معیارات مقرر کیے جائیں جن کے مطابق کسی بھی غیر ملکی یا مقامی نصاب کا انتخاب بچوں کی نشوونما، زبان، ثقافتی مناسبت، سائنسی صحت، تدریسی معیار اور اخراجات کی بنیاد پر ہو۔ جہاں بیرونی نصاب مفید ہو، اسے مقامی مواد کے ساتھ مربوط کیا جائے؛ جہاں مناسب نہ ہو، وہاں متبادل تیار کیا جائے۔
مقصد غیر ملکی نصاب پر پابندی لگانا نہیں، بلکہ نصاب کے انتخاب میں علمی معیار اور قومی ضرورت کو نام و شہرت پر ترجیح دینا ہے۔
5۔ استاد کو مرکزی حیثیت دی جائے
ابتدائی بچپن کے استاد کو محض کتاب پڑھانے والا فرد نہیں بلکہ بچے کی نشوونما میں رہنما سمجھا جائے۔ اس کی تربیت میں بچوں کی نفسیاتی و لسانی ضروریات، کھیل پر مبنی تدریس، ابتدائی ریاضی و خواندگی، بچوں کی حفاظت، مثبت نظم و ضبط اور والدین سے رابطے کو شامل کیا جائے۔
ہر استاد کو یہ صلاحیت حاصل ہونی چاہیے کہ وہ بچے کی غلطی کو سزا کا سبب بنانے کے بجائے سیکھنے کے موقع میں تبدیل کرے۔
6۔ والدین کو شریکِ تعلیم بنایا جائے
والدین کو بتایا جائے کہ گھر میں بچے سے بات کرنا، کہانیاں سنانا، سوالات کے جواب دینا، کتاب دیکھنا، چیزیں گننا اور روزمرہ کاموں میں شریک کرنا بھی تعلیم کا حصہ ہے۔ والدین کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی زبان بچے کے لیے علمی بنیاد ہے، رکاوٹ نہیں۔
اسکول والدین کے ساتھ مختصر نشستیں منعقد کرے اور گھر میں کی جانے والی ایسی سرگرمیاں تجویز کرے جن کے لیے مہنگی کتابوں یا آلات کی ضرورت نہ ہو۔
7۔ کم خرچ اور قابلِ توسیع ماڈل اپنایا جائے
ہر اسکول میں مہنگے درآمدی سامان کی ضرورت نہیں۔ مقامی کتابیں، محفوظ گھریلو اشیا، قدرتی مواد، تصویری کارڈ، کہانیوں کے گوشے، مقامی کھیل اور تربیت یافتہ استاد کم خرچ میں مؤثر تعلیمی ماحول بنا سکتے ہیں۔ جہاں وسائل کم ہوں، وہاں پہلے بنیادی ضروریات، محفوظ جگہ، مناسب استاد اور عمر کے مطابق مواد فراہم کیا جائے۔
نفاذ کے لیے بارہ ماہ کا عملی منصوبہ
اصلاحات صرف اعلان سے نہیں، ذمہ داریوں اور نتائج کے تعین سے آگے بڑھتی ہیں۔ اس لیے ایک ابتدائی سال میں درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
پہلے تین ماہ: صوبائی تعلیمی محکمے، ماہرینِ ابتدائی تعلیم، زبان کے ماہرین، اساتذہ، والدین اور نجی اسکولوں کے نمائندے موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیں۔ مختلف علاقوں میں بچوں کی زبانوں، اساتذہ کی تربیت، موجودہ نصاب اور دستیاب مواد کا بنیادی ڈیٹا مرتب کیا جائے۔
چوتھے سے چھٹے ماہ: مختلف لسانی و سماجی پس منظر رکھنے والے منتخب اسکولوں میں مقامی زبان پر مبنی، کھیل اور سرگرمیوں سے تقویت یافتہ ابتدائی تعلیمی ماڈل آزمایا جائے۔ اساتذہ کو عملی تربیت اور والدین کو رہنمائی دی جائے۔
ساتویں سے نویں ماہ: بچوں کی زبان، سمجھ، ابتدائی خواندگی، عددی تصورات، سماجی تعاون اور دلچسپی میں ہونے والی تبدیلی کا جائزہ لیا جائے۔ اساتذہ اور والدین کی رائے بھی حاصل کی جائے۔ نتائج کی بنیاد پر مواد اور طریقۂ تدریس میں اصلاح کی جائے۔
دسویں سے بارہویں ماہ: آزادانہ جائزے کے بعد کامیاب ماڈل کو مزید اسکولوں تک پھیلانے، بجٹ مختص کرنے، استاد کی مسلسل تربیت اور تدریسی مواد کی تیاری کا منصوبہ بنایا جائے۔ نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ اصلاحات محض کاغذی کارروائی نہ رہیں۔
ذمہ داری کس کی ہے؟
وفاقی حکومت کو بین الصوبائی رابطے، قومی تعلیمی معیار اور تحقیق میں معاونت کرنی چاہیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کے بیشتر عملی معاملات صوبائی دائرۂ اختیار میں ہیں، اس لیے صوبائی حکومتوں کو نصاب، اساتذہ، زبان اور نفاذ کے بارے میں واضح فیصلے کرنا ہوں گے۔ نجی اسکولوں کو بھی اپنے انتخاب کردہ نصاب کے تعلیمی جواز اور بچوں کی ضروریات سے مطابقت واضح کرنی چاہیے۔
اس سلسلے میں ایک موجودہ موقع بھی موجود ہے۔ اکتوبر 2026 کے قریب وفاقی وزارتِ تعلیم کے نیشنل کریکولم کونسل نے ابتدائی بچپن سے پانچویں جماعت تک نئے قومی نصاب کے مسودے پر عوامی رائے طلب کی ہے۔ اس عمل میں والدین، اساتذہ، ماہرین اور تعلیمی اداروں کو شواہد پر مبنی تجاویز پیش کرنی چاہییں، خصوصاً تدریسی زبان، مقامی ثقافت، اخلاقی تربیت اور جدید مہارتوں کے بارے میں۔
آخر کب تک؟
قومیں اپنی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے دنیا سے سیکھتی ہیں۔ وہ اپنی زبانوں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھتیں بلکہ علم تک رسائی کا وسیلہ بناتی ہیں۔ وہ اپنے ورثے کو ماضی کی یادگار بنا کر نہیں رکھتیں بلکہ اسے نئی نسل کی تربیت اور مستقبل کی تعمیر میں استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان کو ایسے بچے درکار ہیں جو قرآن و سیرت سے ملنے والی اخلاقی رہنمائی سے واقف ہوں، اپنی زبان اور ثقافت پر اعتماد رکھتے ہوں، اردو میں قومی سطح پر رابطہ کر سکیں، انگریزی سمیت دوسری زبانوں میں علم حاصل کر سکیں، سائنس و ٹیکنالوجی کو سمجھیں اور اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کریں۔
یہ سب ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اصل مسئلہ ترجیحات اور تدریسی طریقے کا ہے۔
ہمیں آکسفورڈ سے سیکھنے میں کوئی عار نہیں، مگر اپنے بچوں کی تعلیم کا مقصد آکسفورڈ کے نام سے متعین نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ایسا پاکستانی تعلیمی ماڈل بنانا ہوگا جو اپنے ورثے سے جڑا ہو، جدید دنیا کے لیے تیار ہو اور ہر بچے کو اس زبان میں سیکھنے کا حقیقی موقع دے جسے وہ سمجھتا ہے۔
آخر کب تک ہم اپنے بچوں کی قابلیت کا پیمانہ انگریزی الفاظ اور غیر ملکی کتابوں کو بنائے رکھیں گے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی زبانوں، اپنے علمی ورثے اور اپنے بچوں کی حقیقی ضروریات کو تعلیمی پالیسی کے مرکز میں رکھیں۔
چراغِ راہ — تعلیم، تربیت اور قومی مستقبل کے لیے ایک فکری کاوش
