ہومکالم وبلاگزتاریک گلیوں سے مسند امامت تک

تاریک گلیوں سے مسند امامت تک

اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

 محمد ابوبکر مدنی

آج بیتے ہوئے لمحوں کے طاق پر رکھی ایک گرد آلود، پرانی تصویر پر اچانک نظر کیا ٹھہری کہ دل ماضی کی ان تاریک اور ویران گلیوں میں جا بھٹکا جہاں کی ہواؤں میں بھی غفلت اور معصیت کی حبس تھی۔

تصویر تو محض ایک بے جان کاغذ یا سکرین پر بکھرے ہوئے چند بے زبان رنگوں کا نام ہوتی ہے، مگر اس بے زبان عکس کے پسِ منظر میں میری بکھری ہوئی اور بے سمت زندگی کا ایک پورا افسانہٴ الم چھپا ہوا ہے۔ ایک ایسی داستانِ حیات جسے جب بھی یاد کرتا ہوں تو روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ سینے میں سانسیں اٹکنے لگتی ہیں، ندامت کے تیر جگر کے پار ہونے لگتے ہیں، پلکوں کے بند ٹوٹ جاتے ہیں اور سسکیوں کے درمیان زبان پر بے اختیار اپنے رب کے کرم کا شکر اور عجز جاری ہو جاتا ہے کہ ”یا ربِ کریم! تیرے اس بے مایہ گنہگار پر یہ کیسا احسان ہو گیا؟“

کبھی میں بھی زندگی کی بے سمت اور نا ہموار راہوں کا ایک بھٹکا ہوا، آوارہ مسافر تھا۔ نہ مستقبل کی کوئی پاکیزہ سمت تھی، نہ دل میں رب کی رضا کی کوئی تڑپ۔ اب جو ماضی کی ان خطاؤں، سیاہ کاریوں، اور غفلت بھری راتوں پر نگاہ جاتی ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے کہ… کیا یہ وہی انسان ہے؟ کیا یہ وہی ناہنجار اور بھٹکا ہوا وجود ہے جسے آج رب العزت نے اپنے مقدس گھر کے محراب و ممبر کی پاسبانی عطا فرما دی؟ جسے اپنے بندوں کی امامت جیسے عظیم الشان اور باوقار منصب کے لیے چن لیا؟

خواب و خیال میں بھی کہاں گمان تھا کہ جو وجود کبھی تاریکیوں کا اسیر تھا، ایک دن مسجد کا آستانہ ہی اس کی تڑپتی روح کا واحد مسکن بن جائے گا! جس نے عمر کا ایک حصہ رب کو ناراض کرنے میں گنوایا، وہ ایک دن خالقِ کائنات کی بارگاہ میں سر بسجود ہو کر اس کے بندوں کی امامت کرے گا!

جب اپنے ماضی کے اس ہولناک ویرانے اور حال کی اس شادابی و ہدایت کا موازنہ کرتا ہوں تو خوشی کی جگہ ایک ایسا بوجھل احساسِ ندامت اور خوفِ الٰہی دل کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے کہ لفظ ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بس ایک ہی آہ نکلتی ہے:

> ”اے میرے مالک! اے میرے پروردگار! میری کیا اوقات تھی؟ میں تو مٹی کی بے قدر حسرت سے زیادہ کچھ نہ تھا! یہ تو صرف اور صرف تیری بے حساب رحمت کا سایہ تھا جس نے مجھ جیسے گرتے ہوئے گنہگار کو سنبھال لیا یہ تو تیرا ہی احسانِ عظیم ہے جس نے مجھے اندھیروں کے دلدل سے نکال کر نورِ ہدایت کی روشنی سے روشناس کرایا۔“

سچ کہا ہے دانائے سبل اور عارفینِ حق نے کہ اللہ والوں کی صحبت و قربت انسان کے لیے کیمیا کا اثر رکھتی ہے۔ نفوسِ قدسیہ کی ایک شفقت بھری نگاہ، ان کا دردِ دل سے بھرا ایک جملہ اور ایک دعا انسان کے مردہ قلب کی کایا پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔ ان کی بارگاہ میں بیٹھ کر ہی انسان کو اپنے نفس کی نجاست کا ادراک ہوتا ہے، تزکیہ اور پاکیزگی کی فکر لاحق ہوتی ہے، اور زیست کا حقیقی مقصد یعنی معرفتِ الٰہی کا آفتاب طلوع ہوتا ہے۔

اپنی اس کایا پلٹ اور روح کی اس باوقار واپسی پر جب بھی غور کرتا ہوں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور زبان پر شعر جاری ہو جاتا ہے:

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی!

یہ شعر میرے لیے محض دو مصرعے یا کوئی روایتی بندش نہیں… یہ میری بکھری ہوئی زندگی کا عملی مرثیہ اور میرے موجودہ حال کی سچی ترجمانی ہے۔ اس میں اس بندہٴ عاجز کے وہ گہرے اور زخمی احساسات ڈھلے ہوئے ہیں جو جب اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہے تو اسے اپنی کاوشوں کے بجائے صرف اور صرف اپنے رب کا فضل نظر آتا ہے۔ اپنی کسی قابلیت یا لیاقت کے بجائے اپنے محسنوں کی شفقت سے بھری دستگیری یاد آتی ہے۔

مجھے نظر آتا ہے تو بس اپنے رب کا بے پایاں کرم… میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا فیضِ باطن، اور رکنِ شوریٰ حاجی وقار المدینہ صاحب جیسی عظیم ہستیوں کی دعائیں، شفقت اور تربیت! اور اس عظیم نعمت کے ساتھ ساتھ، دل میں ہر دم یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ اس صراطِ مستقیم پر آخری سانس تک ثباتِ قدمی نصیب رہے۔

میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کہ میں کوئی کامل یا پارسا انسان بن گیا ہوں۔ حاشا و کلا! میں آج بھی سراپا خطا، مجسمِ عصیان، اور اپنے رب کی رحمت کا لمحہ بہ لمحہ محتاج ایک عاجز فقیر ہوں۔ میں تو آج بھی اپنے سرکش نفس کی اصلاح کا طالب ہوں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ خدائے رحمن نے اپنے محض فضل و کرم سے مجھے ایک ایسا راستہ دکھا دیا ہے جہاں ہر لمحہ اپنی ذات کے سخت احتساب کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب مجھے اپنے ماضی اور حال کی غلطیوں پر رات کی تنہائیوں میں رونا آتا ہے، اور دل میں ہر وقت ایک دردناک کسک رہتی ہے کہ کہیں میرا کریم رب مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔

جب مسجد کے محراب میں کھڑا ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہتا ہوں، تو خوفِ خدا سے روح لرز جاتی ہے۔ یہ امامت میرے لیے کوئی دنیاوی عہدہ، جاہ و جلال یا فخر و مباہات کی چیز نہیں یہ تو میرے گناہوں کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ایک ایسا ہولناک امتحان ہے جس کا ہر لمحہ مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ میں خود کو سنبھال کر رکھوں۔

میرے لیے محرابِ عبادت پر کھڑا ہونا محض کوئی منصب نہیں، بلکہ امانتِ الٰہی کا ایک نہایت بھاری بوجھ ہے۔ جب بھی محراب میں قدم رکھتا ہوں تو دیدہٴ نم ناک کے ساتھ بارگاہِ ایزدی میں یہ التجا نکلتی ہے:

> ”یا الٰہی! جن قدموں کو تو نے اپنے گھر کی آستان بوسی کی توفیق دی ہے، انہیں اب کبھی کسی معصیت اور گمراہی کی راہ پر نہ بھٹکنے دینا! جس زبان کو تو نے اپنے کلامِ پاک کی تلاوت اور ذکر سے معطر کیا ہے، اسے تا دمِ زیست اپنی رضا کا تابع رکھنا! اور جس زندگی کو تو نے گمراہی کے تاریک گڑھوں سے نکال کر ہدایت کا موڑ دیا ہے، اس کا خاتمہ بھی ایمان بالخیر اور عافیت پر فرمانا!“

آج اس پرانی تصویر کو دیکھ کر دل کی گہرائیوں سے ان تمام ہستیوں اور محسنوں بالخصوص امیرِ اہلسنت مولانا الیاس عطار قادری اور رکنِ شوریٰ حاجی وقار المدینہ صاحب کے لیے دعاؤں کے چشمے پھوٹتے ہیں جن کی شفقت، صحبت اور اصلاحی دامن سے وابستگی میری اس ویران زندگی میں خیر، برکت اور ہدایت کا ذریعہ بنی۔ خدا ان نیک نفس اور ہادیانِ دین پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔

اور ان تمام ہستیوں سے بڑھ کر میں اپنے اس ربِ کریم، غفور و رحیم کا بے حد احسان مند ہوں جس نے میری بے شمار لغزشوں، گناہوں اور عیوب کی پردہ پوشی فرمائی، مجھے اپنی رحمتِ مجسم سے کبھی مایوس نہ ہونے دیا، اور میرے بنجر و ویران دل میں اپنی اور اپنے محبوب ﷺ کی محبت کی شمع روشن کر دی۔

”اے ہمارے پروردگار! یہ سب تیرا ہی کرم ہے، تیرا ہی فضل ہے، اور تیری ہی عطا ہے۔ مجھے ایک لمحے، ایک پل کے لیے بھی میرے نفسِ امارہ کے سپرد نہ فرمانا! میرے ماضی کے تمام گناہوں کو معاف فرما، میرے حال کو اپنی طاعت سے سنوار دے اور میرے مستقبل کو اپنی رضا کا تابع بنا دے! اس سعادتِ امامت کو میرے لیے آزمائش کے بجائے نجات کا ذریعہ بنا مجھے اخلاص، استقامت اور آخری سانس تک اپنے دینِ متین کی مخلصانہ خدمت کی توفیق عطا فرما۔“

حقیقت یہی ہے کہ کبھی کبھی ایک سادہ سی، بظاہر بے قدر پرانی تصویر محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں رہتی وہ ایک بیدار آئینہ بن کر انسان کو اس کا ماضی دکھاتی ہے، حال کی نعمتوں کا احساس دلاتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ وہ کس پستی اور تاریکی میں تھا اور اللہ کے بے سبب فضل نے اسے اٹھا کر کس بلندی اور عزّت کے مقام پر بٹھا دیا۔

آج اس ایک تصویر نے میرے دل کے سوئے ہوئے تار چھیڑ دیے ہیں اور میری روح نے تڑپ کر بارگاہِ الٰہی میں صرف یہی ایک گواہی دی ہے:

میں کچھ بھی نہیں تھا، میرے رب نے مجھے سنبھال لیا؛

میں کسی شمار میں نہ تھا، اس نے اپنے کرم سے مجھے ایک نسبت عطا فرما دی!

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔