اسلام آباد (آئی پی ایس )نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی اور فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر دلیرانہ انداز میں دوٹوک مقف پیش کیا۔ دورہ نیویارک کے دوران 5 روز میں روزانہ اوسطا 12 ملاقاتیں ہوئیں، جن میں عالمی رہنماں اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس اور اسلامی تعاون تنظیم کے مختلف اجلاسوں میں شرکت کی۔ اس دوران کئی عالمی رہنماں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، جبکہ دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس عالمی رہنماں سے ملاقاتوں اور مختلف عالمی فورمز میں شرکت کا اہم موقع ہوتا ہے۔ اس دوران سفارتی سرگرمیوں، دوطرفہ ملاقاتوں اور قومی مفادات سے متعلق امور پر گفتگو کے ذریعے کئی اہم اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
نائب وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاکستان کا مقف عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے دیرینہ اور دوٹوک مقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا، جبکہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی جنگ کے حوالے سے بھی عالمی برادری کو آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے گزشتہ 2 سال کے دوران کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان نے کثیرالجہتی سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق قرارداد 12 سال بعد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جو عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف ہے۔
