اسلام آباد (سب نیوز) پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ روس یوکرین بحران کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے مذاکراتی عمل کی بحالی کا خواہاں ہے اور روسی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یکم اکتوبر کو اسلام آباد میں بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر نے یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں پر روس کے خلاف فوجی، اقتصادی، قانونی اور اطلاعاتی دباؤ بڑھانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل فوجی اور مالی معاونت فراہم کرنے سے تنازع طول پکڑ رہا ہے۔
البرٹ خوریف نے دعویٰ کیا کہ 2022 سے 2025 کے دوران یوکرین کو مغربی فوجی امداد 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ نیٹو ممالک یوکرین کو انٹیلی جنس، مواصلاتی اور جنگی منصوبہ بندی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ روسی سفیر نے یوکرینی حملوں کے نتیجے میں روسی شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ذکر کیا۔
روسی انتخابات اور بیرونی دباؤ
روسی سفیر نے گزشتہ ماہ ہونے والے اسٹیٹ دوما انتخابات کو روسی سیاست کا اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ 59 فیصد سے زیادہ رہا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مقیم روسی شہریوں کے لیے اسلام آباد میں روسی سفارتخانے میں بھی ووٹنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔
خوریف نے دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل کے دوران روسی الیکٹرانک ووٹنگ کے بنیادی ڈھانچے پر تین ہزار سے زائد DDoS حملے کیے گئے جبکہ مختلف علاقوں میں ووٹنگ مراکز بھی ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے۔
روس مخالف پابندیاں
روسی سفیر نے مغربی پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے مطابق ان اقدامات کے اثرات صرف روس تک محدود نہیں رہے بلکہ یورپی اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ان کے بقول پابندیوں نے توانائی، تجارت، مالیات اور سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف پابندیوں نے روس، چین، برکس اور دیگر ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت اور متبادل مالیاتی نظاموں کے فروغ کے رجحان کو بھی تیز کیا ہے۔
بحیرۂ اسود اور عالمی غذائی سلامتی
البرٹ خوریف نے بحیرۂ اسود اور بحیرۂ آزوف میں شہری بحری جہازوں کو درپیش خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق رواں سال 200 سے زائد بحری جہاز، جن میں 96 غیر ملکی پرچم بردار جہاز شامل ہیں، یوکرینی حملوں کا نشانہ بنے۔
روسی سفیر نے کہا کہ بحیرۂ اسود میں کشیدگی عالمی غذائی اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی گندم کی برآمدات میں روس اور یوکرین کے حصے کا حوالہ دیتے ہوئے روسی غذائی مصنوعات کی برآمدات میں رکاوٹوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کریمیا کا سونا اور بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ
بریفنگ کے موقع پر ’’سائیتھیائی گولڈ‘‘ سے متعلق نمائش بھی پیش کی گئی۔ خوریف نے کہا کہ یہ آثارِ قدیمہ کریمیا میں دریافت ہوئے تھے اور ان کی واپسی کریمیا کے عجائب گھروں کو ہونی چاہیے تھی، تاہم نیدرلینڈز سے متعلقہ مجموعہ یوکرینی حکام کے حوالے کیا گیا۔
انہوں نے ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے روس اور یوکرین کے درمیان کیرچ آبنائے، بحیرۂ آزوف اور کریمیا کے گرد سمندری علاقوں سے متعلق فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ روسی مؤقف کے مطابق اس فیصلے میں یوکرین کے متعدد دعوے مسترد کیے گئے۔
یوکرینی آرتھوڈوکس چرچ کا معاملہ
روسی سفیر نے یوکرین میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کییف حکام یوکرینی آرتھوڈوکس چرچ کے خلاف دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے گرجا گھروں اور خانقاہوں، مذہبی برادریوں اور پادریوں سے متعلق اقدامات کو مذہبی آزادی کے لیے تشویشناک قرار دیا۔
خوریف نے یوکرینی بچوں سے متعلق مختلف اعداد و شمار کو بھی متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی مؤقف کے مطابق بچوں سے متعلق دعووں کی آزادانہ اور قابلِ تصدیق جانچ ضروری ہے۔
مذاکرات کی بحالی پر زور
روسی سفیر نے کہا کہ ماسکو گزشتہ سال معطل ہونے والے مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے تیار ہے اور تنازع کے سیاسی و سفارتی حل کی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے امریکہ کی پالیسی میں حالیہ تبدیلی اور روس پر مزید پابندیوں کے دباؤ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ماسکو کے مطابق ایسے اقدامات مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے لیے معاون نہیں۔
البرٹ خوریف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیر خارجہ سرگئی لاوروف متعدد مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ روس یورپی ممالک کے ساتھ جنگ کی تیاری نہیں کر رہا اور یورپ کے خلاف جنگی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔
