ہومبریکنگ نیوزپاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے تقریب

پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے تقریب

اسلام آباد (آئی پی ایس )ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات محض 75 سالہ سفارتی سفر نہیں بلکہ باہمی اعتماد، احترام، تعاون اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی شاندار داستان ہیں۔ 21 مئی 1951 کو قائم ہونے والے پاک چین سفارتی تعلقات وقت کے ساتھ ایک مضبوط، مستحکم اور ہمہ جہت شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چین کے سفیر، سفارت کاروں، ارکانِ پارلیمان، دانشوروں، میڈیا نمائندگان اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے Diplomatic Focus کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں فضل الہی کا تقریب کے انعقاد اور انہیں شرکت کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے سات عشروں کے دوران عالمی اور علاقائی حالات میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، تاہم پاکستان اور چین کے تعلقات میں تسلسل اور استحکام برقرار رہا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری، قومی مفادات اور ترقی کے حق کا احترام کیا اور مشکل اوقات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اب صرف حکومتوں اور ریاستی اداروں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، اعتماد اور خیرسگالی نے اس رشتے کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، زراعت، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔


سیدال خان ناصر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) پاک چین شراکت داری کا ایک اہم مظہر ہے، جس نے رابطہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسعت دیتے ہوئے صنعت، زراعت، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔


ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پاک چین تعلقات میں پارلیمانی اور عوامی سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانیں صرف قانون سازی کے ادارے نہیں بلکہ عوام کے جذبات، خواہشات اور امنگوں کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے تبادلے، باہمی ملاقاتیں اور روابط ایک دوسرے کو سمجھنے اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ سفارت کاری صرف سرکاری ملاقاتوں اور سفارتی اداروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ذرائع ابلاغ، دانشور، کاروباری برادری، جامعات اور معاشرے کے مختلف طبقات بھی اقوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ Diplomatic Focus جیسے پلیٹ فارمز عوامی سطح پر پاکستان اور چین کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے، دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے اور تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


سیدال خان ناصر نے پاکستان کی جانب سے چینی قیادت اور عوام کو پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی موقع گزشتہ 75 برسوں کی کامیابیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے نئے عزم کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور چین کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک کی شراکت داری امن، ترقی، خوشحالی اور علاقائی استحکام کے لیے مزید مثر کردار ادا کرے گی۔


ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے Diplomatic Focus کی جانب سے پاک چین دیرینہ دوستی اور سفارتی تعلقات کو اجاگر کرنے کے لیے بامقصد فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان دوستی، محبت اور باہمی اعتماد کو مزید فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔


انہوں نے تقریب کے منتظمین اور بالخصوص میاں فضل الہی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی ایک دیرینہ اور مضبوط رشتہ ہے جو باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر استوار ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔