ملتان(ایڈیٹر انویسٹی گیشن) چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان عاصم لودھی نے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے) اراضی کیس میں کارروائی کی ہے، جس کے دوران اتھارٹی کے لیے حاصل کی گئی زمین کے سرکاری ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر تضاد اور بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کی جانب سے فراہم کیے گئے سرکاری ریکارڈ میں پانچ اضلاع کوٹ ادو، لیہ، بھکر، میانوالی اور خوشاب میں ٹی ڈی اے کے لیے حاصل کی گئی زمین کا رقبہ 4 لاکھ 63 ہزار 406 ایکڑ ظاہر کیا گیا، تاہم اصل نوٹیفکیشنز کی جانچ کے بعد نیب تحقیقات میں حاصل شدہ اراضی کا حقیقی رقبہ 10 لاکھ 16 ہزار 126 ایکڑ سامنے آیا۔
تحقیقات میں سرکاری ریکارڈ میں تقریباً 5 لاکھ 52 ہزار ایکڑ کا بڑا فرق سامنے آیا ہے۔ نیب کے مطابق اراضی ریکارڈ کی تصدیق اور اسے محفوظ رکھنے کا نظام بھی مبینہ طور پر متاثر پایا گیا۔
تحقیقات کے دوران کوٹ ادو میں تین مواضعات کا مکمل ریکارڈ مبینہ طور پر غائب پایا گیا، جبکہ بھکر کے پانچ مواضعات سے متعلق ریکارڈ بھی دستیاب نہیں تھا۔
لیہ میں تحقیقات کے دوران سرکاری اراضی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلات سامنے آئیں۔ ریکارڈ کے مطابق 5 لاکھ 66 ہزار 360 ایکڑ اراضی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، تاہم ضلع کے ایڈجسٹمنٹ رجسٹر میں تقریباً 5 لاکھ 28 ہزار ایکڑ اراضی درج تھی، جبکہ 2 لاکھ 54 ہزار 662 ایکڑ کو ٹی ڈی اے کی زمین ظاہر کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق بڑی مقدار میں اراضی کی منتقلی اور ایڈجسٹمنٹ کے لیے مختلف ڈسپوزل اسکیمیں استعمال کی گئیں، جن میں آبادکاری اسکیم، نیلامی اسکیم، مقررہ قیمت اسکیم، نمبرداری اسکیم اور سرونٹ گرانٹس سمیت دیگر اسکیمیں شامل ہیں۔
نیب تحقیقات کے دوران تقریباً 23 ہزار ایکڑ اراضی کو مبینہ طور پر جعلی فائلوں، جنہیں ’’نَتھی بے‘‘ فائلیں قرار دیا گیا، کے ذریعے غیر قانونی طور پر ایڈجسٹ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے 5 ہزار ایکڑ اراضی ریونیو ریکارڈ میں دوبارہ ٹی ڈی اے کے نام منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ باقی اراضی کی واپسی یا منتقلی کا عمل جاری ہے۔
اسی طرح 6 ہزار 100 ایکڑ اراضی مبینہ طور پر جعلی آر ایل ٹو (RL-II) دعووں کی بنیاد پر منتقل کی گئی، جنہیں بعد ازاں بورڈ آف ریونیو نے جعلی قرار دیا۔ اس اراضی کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔
تحقیقات میں محکمہ جنگلات کو منتقل کی گئی اراضی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق محکمہ جنگلات کے لیے 47 ہزار 133 ایکڑ اراضی مختص کی گئی تھی، تاہم جانچ پڑتال میں صرف 34 ہزار 879 ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کے نام منتقل شدہ پائی گئی۔ نیب تحقیقات میں تقریباً 12 ہزار 62 ایکڑ ٹی ڈی اے اراضی کے مبینہ غبن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ایک اور معاملے میں 710 ایکڑ اراضی مبینہ طور پر PHATA کے نام پر خوردبرد کیے جانے کا انکشاف ہوا، جبکہ لیہ میں ٹی ڈی اے کی 46 ایکڑ اراضی جعلی فرد بیع کے ذریعے لیہ شوگر ملز کو منتقل کیے جانے کا بھی الزام سامنے آیا۔
بھکر میں محکمہ جنگلات نے 1971 میں ٹی ڈی اے سے 12 ہزار ایکڑ اراضی خریدی تھی۔ تحقیقات کے مطابق یہ زمین محکمہ جنگلات کے نام منتقل ہونے کے بجائے مبینہ طور پر خوردبرد کی گئی۔ نیب کی کوششوں سے مذکورہ اراضی کی واپسی عمل میں لائے جانے کی اطلاع ہے۔
نیب کی تحقیقات تاحال جاری ہیں، جبکہ ریونیو ریکارڈ کی مزید جانچ، مبینہ جعلی لین دین کی منسوخی اور اراضی کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔
