ہومپاکستانپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر ظلم، حکومت اپنی نااہلی کا بوجھ عام آدمی پر نہ ڈالے، فواد چوہدری

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر ظلم، حکومت اپنی نااہلی کا بوجھ عام آدمی پر نہ ڈالے، فواد چوہدری

اسلام آباد(سٹی رپورٹر)نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماوں فواد حسین چوہدری اور محمود مولوی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، گزشتہ چند دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر تیل کی قیمت میں اب تک 119 روپے تک اضافہ عوام پر بھاری بوجھ بن چکا ہے۔ حکومت عالمی حالات کو جواز بنا کر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اگر حکومت اپنا نظام موثر انداز میں نہیں چلا سکتی تو اس کی ناکامی کا بوجھ عام آدمی پر ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد حسین چوہدری نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہریوں نے موٹر سائیکلیں گھروں میں کھڑی کرنا شروع کر دی ہیں، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا کہ وہ انہیں مزید کتنا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں صرف سات ماہ کے دوران 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، اس کے باوجود سرکاری سطح پر اربوں روپے کے فائدے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عوام بجلی کی عدم دستیابی اور مہنگے بلوں کا سامنا کر رہے ہوں تو محض مالی فائدے کے دعوے کس طرح عوامی مسائل کا متبادل بن سکتے ہیں۔فواد چوہدری نے حکومتی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عام آدمی کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے جبکہ حکمران طبقے کے اخراجات میں کمی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ذمہ دار افراد کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ سرکاری وسائل کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اگر حکومتی شخصیات کے بیرون ملک دورے ذاتی نوعیت کے ہیں تو ان کے اخراجات کی تفصیلات اور رسیدیں عوام کے سامنے لائی جائیں۔انہوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیرون ملک سفر اور صدر آصف علی زرداری کے غیر ملکی دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ ان دوروں کے اخراجات کس مد میں ادا کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف عوام پٹرول، بجلی، اشیائے خورونوش اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں جبکہ دوسری طرف حکمران اشرافیہ کے اخراجات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، عام آدمی کے لیے موجودہ آمدنی میں گھر چلانا مشکل ہو چکا ہے۔ جب تک لوگوں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ نہیں ہوگا، محض اعداد و شمار اور حکومتی دعووں سے معاشی صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بنیادی طور پر بہتر گورننس، موثر انتظامی ڈھانچے اور وسائل کے منصفانہ استعمال کی ضرورت ہے۔انہوں نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس جانب سے بھی نئے صوبے بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے، اس پر سنجیدہ اور کھلے ذہن کے ساتھ مزید بحث ہونی چاہیے۔ صوبوں کے معاملے پر بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ کسی بھی صوبے کو دیکھ لیں، عوام بنیادی سہولیات، روزگار، صحت، تعلیم، پانی اور مہنگائی کے مسائل میں پس رہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا مقصد کسی صوبے کی شناخت کو متاثر کرنا نہیں بلکہ انتظامی اختیارات اور وسائل کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ اگر موجودہ نظام عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے تو اس کے متبادل انتظامی ماڈلز پر قومی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔اس موقع پر محمود مولوی نے کہا کہ کوئی بھی صوبائی حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ عوام کو مسلسل کفایت شعاری کا درس دیا جا رہا ہے۔ اگر کفایت شعاری واقعی مطلوب ہے تو اس کا آغاز حکمران طبقے اور حکومت کے اعلی اخراجات سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے پاس وسائل کی کمی کا شکوہ اپنی جگہ، مگر عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان وسائل کو کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے اور نچلی سطح تک ان کا کتنا حصہ پہنچ رہا ہے۔محمود مولوی نے کہا کہ ملک میں کہیں دھرنوں اور کہیں احتجاج کی باتیں ہو رہی ہیں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہی ہیں، لیکن سڑکوں پر مسائل حل نہیں ہوتے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر قومی مسائل پر بات کرنی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر سمیت تمام سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی سے عوام کے مسائل مزید بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت یہ دعوی کرتی ہے کہ اس نے اپنے دور میں دودھ کی نہریں بہا دیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا ملا؟ عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار، سستی بجلی، سستا پٹرول اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کیا بہتری آئی؟ سیاسی قیادت کو دعووں کے بجائے عملی کارکردگی کا حساب دینا ہوگا۔محمود مولوی نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور تیسری قوت کے لیے جواز پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں موجودہ حالات میں محسوس ہو رہا ہے کہ اگر سیاسی قیادت نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو ملک میں تیسری قوت کے لیے جگہ بن سکتی ہے۔انہوں نے انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا ہر انتخاب کے بعد دھاندلی کے الزامات سامنے آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابی نظام پر بھی سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور سیاسی استحکام پیدا ہو۔محمود مولوی نے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں مراعات اور اخراجات کا سلسلہ جاری ہے۔ جب تک ترقیاتی فنڈز اور حکومتی وسائل نچلی سطح تک نہیں پہنچیں گے، عوام کی زندگی میں حقیقی خوشحالی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبوں کی سطح پر وسائل کی تقسیم کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اور مقامی حکومتوں کو بھی موثر اختیارات اور فنڈز دینا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں کبھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور کبھی الگ ہونے کے اعلانات کرتی ہیں، عوام کو اس سیاسی کشمکش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ اگر واقعی ملک اور عوام کی فکر ہے تو تمام سیاسی قوتیں پارلیمنٹ کے اندر بیٹھیں، اختلافات ختم کرنے کی کوشش کریں اور قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔محمود مولوی نے مزید کہا کہ اگر حکمران اور سیاسی جماعتیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات نہیں کرتیں تو عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو حالات کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے سیاسی قیادت کو حالات خراب ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر مذاکرات، بہتر گورننس، اخراجات میں کمی اور موثر انتظامی اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔