اسلا م آباد (سب نیوز)اڈیالہ جیل کے 3قیدیوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فراہم کی جانے والی طبی و دیگر سہولیات اپنے لیے بھی دستیاب کرانے کے مطالبے پر دائر اپیل وفاقی آئینی عدالت نے سماعت کے لیے مقرر کردی۔وفاقی آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 14 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کرے گا،بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل ہوں گے۔
اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اپنے لیے بھی دستیاب کرانے کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بھی وہی طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے جو بانی پی ٹی آئی کو دستیاب ہیں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے جیل میں طبی سہولیات کی فراہمی کے معاملے میں بھی امتیاز نہیں برتا جا سکتا۔
قیدیوں نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جو طبی سہولیات میسر ہیں، وہی سہولیات انہیں بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔درخواست میں یہ بھی موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم تاحال نافذ العمل ہے، جس کے تحت بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔درخواست گزاروں نے وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی روشنی میں ان کا علاج بھی شفا انٹرنیشنل اسپتال سے کرانے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو حاصل سہولت کے طرز پر درخواست گزار قیدیوں کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک موجود افراد سے بات چیت کی اجازت دی جائے۔قیدیوں نے وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے آئینی حقوق کے تحت انہیں بھی یکساں طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔
