تہران (سب نیوز)ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے ممنوعہ بحری علاقے کا دائرہ کار بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق نئے محدود علاقے کی درست حدود اور نقاط بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے ممنوعہ بحری علاقے کا دائرہ کار ایران کے ساحلی شہر چاہ بہار سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق چاہ بہار سے شروع ہونے والا یہ محدود بحری علاقہ خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب کے کچھ حصوں تک پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ممنوعہ بحری علاقے کی درست حدود اور جغرافیائی نقاط بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
یہ اعلان ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز سے باہر ایک نیا ممنوعہ بحری علاقہ قائم کرے گا۔خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک ممنوعہ علاقے کی توسیع ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری راستوں میں کشیدگی بڑھ چکی ہے، جس سے بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے 8 ستمبر کو پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے الازرق کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے کی اطلاع دی۔امریکی سینٹ کام کے مطابق جن تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا وہ مبینہ طور پر ایسے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے جو پاسداران انقلاب اور اس سے وابستہ علاقائی گروہوں کو مالی وسائل فراہم کرتا ہے۔ امریکی فوج نے ایم ٹی ریسکو نامی ایک ٹینکر کی کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں جہاز کو دھماکے کے بعد خلیجِ عمان میں ڈوبتے دیکھا جاسکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق 8 ستمبر سے تین روز پہلے بھی امریکا نے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تیل بردار جہازوں اور تین امریکی مفادات سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا۔ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری راستوں میں بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کو خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اسی تناظر میں خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں میں نئے ممنوعہ بحری علاقے کا اعلان خطے میں بڑھتی سمندری کشیدگی کی ایک اور علامت قرار دیا جارہا ہے۔
ایران کا آبنائے ہرمز کے ممنوعہ علاقے کا دائرہ بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب تک وسیع کرنے کا اعلان
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
