ہومتازہ ترینپاک چین آہنی دوستی کو مزید گہرا اور عالمی طرز حکمرانی اقدام پر مشترکہ عمل درآمد

پاک چین آہنی دوستی کو مزید گہرا اور عالمی طرز حکمرانی اقدام پر مشترکہ عمل درآمد

اسلام آباد: گزشتہ سال عالمی فاشزم مخالف جنگ میں فتح اور اقوام متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے اہم تاریخی موقع پر صدر شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تیانجن سربراہی اجلاس میں باضابطہ طور پر عالمی طرز حکمرانی اقدام (Global Governance Initiative – GGI) پیش کیا۔

اس اقدام نے کثیرالجہتی کے پرچم کو بلند رکھنے، اتحاد و یکجہتی کی طاقت کو یکجا کرنے اور ایک منصفانہ مستقبل کی جانب پیش رفت کا واضح پیغام دیا ہے۔ یہ بین الاقوامی تعلقات میں بڑھتی ہوئی جمہوریت کے عصرِ حاضر کے رجحان سے ہم آہنگ ہے، کثیرالجہتی کے عملی فروغ کے لیے عالمی برادری کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور عالمی طرز حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے۔ یوں یہ ایک ہنگامہ خیز دنیا میں استحکام اور مثبت توانائی کا قیمتی ذریعہ بن رہا ہے۔

عالمی طرز حکمرانی اقدام کا بنیادی فلسفہ

عالمی طرز حکمرانی اقدام کا بنیادی فلسفہ ایک جامع اور منطقی طور پر مربوط نظام پر مشتمل ہے۔

خودمختار مساوات اس کی اولین شرط ہے۔ تمام ممالک، خواہ ان کا حجم، طاقت یا دولت کچھ بھی ہو، انہیں عالمی طرز حکمرانی کے عمل میں مساوی بنیادوں پر شرکت، فیصلہ سازی اور فوائد حاصل کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی قانون کی حکمرانی بنیادی ضمانت ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کا اطلاق سب پر یکساں اور مساوی طور پر ہونا چاہیے۔ دوہرے معیار سے گریز کیا جائے اور چند ممالک کے داخلی یا مخصوص قوانین کو دوسروں پر مسلط نہ کیا جائے۔

کثیرالجہتی اس کا بنیادی راستہ ہے۔ وسیع مشاورت، مشترکہ کردار اور مشترکہ فوائد کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے مقام اور اختیار کا مضبوطی سے تحفظ ضروری ہے۔

عوام پر مبنی نقطۂ نظر اس اقدام کی بنیادی قدر ہے۔ طرز حکمرانی کے نتائج سے تمام ممالک کے عوام کو زیادہ وسیع اور مساوی فوائد پہنچنے چاہئیں اور شمال و جنوب کے درمیان ترقیاتی فرق کو کم کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔

اسی طرح عمل پر مبنی نقطۂ نظر نتائج کے حصول کی کلید ہے۔ جامع منصوبہ بندی اور مربوط پیش رفت کے ذریعے عملی تعاون کو فروغ دینا، نمایاں نتائج حاصل کرنا اور طرز حکمرانی میں تاخیر اور تقسیم سے بچنا ضروری ہے۔

ایک چینی تجویز سے عالمی عمل تک

گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی طرز حکمرانی اقدام کو بڑھتی ہوئی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور یہ ایک چینی تجویز سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی عمل کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو اس کی بھرپور توانائی، اثر و رسوخ اور کشش کا مظہر ہے۔

اس اقدام کے آغاز کے فوراً بعد تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس کی حمایت اور مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ نیویارک، جنیوا اور ویانا میں عالمی طرز حکمرانی کے دوست ممالک کے گروپ قائم کیے گئے، جن میں 60 سے زائد ممالک مختلف عالمی طرز حکمرانی کے معاملات پر قریبی رابطہ اور مشاورت کے لیے شامل ہوئے۔

صدر شی جن پنگ نے ورچوئل برکس سربراہی اجلاس، خواتین کے حوالے سے عالمی رہنماؤں کے اجلاس اور عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس میں اہم خطابات کیے، جنہوں نے عالمی طرز حکمرانی کو بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کی سمت متعین کی۔

چین نے بعد ازاں عالمی طرز حکمرانی اقدام کا تصوراتی دستاویز اور “زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی: چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات” کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کیا، جس کے ذریعے اس اقدام کے مقاصد، اصولوں اور عملی منصوبوں کو مزید واضح کیا گیا۔

چین کے شہر ہانگ کانگ میں بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کا باضابطہ آغاز ہوا، جس نے اپنے پہلے بین الاقوامی بحری تنازعے کے حل میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح چین میں ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) بھی قائم کی گئیں۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی اجلاس میں چین نے اپنے 2035 کے قومی سطح پر متعین کردہ اہداف کا اعلان کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے مسلسل پھیلاؤ کے ساتھ عالمی جنوب کی نمائندگی اور آواز بھی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

یہ تمام پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ وسیع مشاورت، مشترکہ کردار اور مشترکہ فوائد عالمی برادری کی خواہش ہیں، کثیرالجہتی ایک عالمی اتفاق رائے ہے اور زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کا نظام قائم کرنا ہم سب کی مشترکہ توقع ہے۔

پاکستان عالمی طرز حکمرانی اقدام کے عملی حامیوں میں پیش پیش

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے مستقل طور پر عالمی طرز حکمرانی اقدام کی حمایت کی ہے اور اس کے عملی نفاذ میں کردار ادا کیا ہے۔

صدر شی جن پنگ کی جانب سے اس اقدام کی تجویز پیش کیے جانے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر اس کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی امن، ترقی اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے اسے مضبوط کثیرالجہتی کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا، جو عالمی طرز حکمرانی کے نظام کو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کے لیے زیادہ مؤثر بنانے اور انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گا۔

پیچیدہ اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے ایک اہم مرحلے پر صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے مشترکہ فروغ کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے حصول کے لیے ایک رہنما منصوبہ قرار دیتے ہوئے سراہا۔

چین اور پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی اقدام بھی پیش کیا، جو عالمی طرز حکمرانی اقدام کو عملی اقدامات کے ذریعے نافذ کرنے کی ایک مثال ہے۔

صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کے فعال کردار اور ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

WAICO کے بانی ارکان میں شامل پاکستان ایک منصفانہ اور مساوی عالمی مصنوعی ذہانت طرز حکمرانی کے نظام کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی طرز حکمرانی اقدام پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں صفِ اول میں رہا ہے۔

مستقبل کی جانب: پاک چین دوستی اور عالمی طرز حکمرانی میں مشترکہ پیش رفت

مستقبل کے حوالے سے چین پاکستان کے ساتھ مل کر پاک چین دوستی کو مزید گہرا کرنے اور عالمی طرز حکمرانی اقدام کے نفاذ میں زیادہ جامع اور عملی پیش رفت کے لیے تیار ہے۔

عالمی طرز حکمرانی میں شراکت دار اور عالمی جنوب کے تعاون میں قائدانہ کردار

چین اور پاکستان عالمی طرز حکمرانی میں شراکت دار اور عالمی جنوب کے تعاون میں رہنما کردار ادا کریں گے۔

چین پاکستان سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر حقیقی کثیرالجہتی پر مضبوطی سے عمل کرنے، اقوام متحدہ کو مرکز رکھنے والے بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظم کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

دونوں ممالک دوسری جنگ عظیم میں حاصل ہونے والی فتح کے ثمرات کا بھرپور تحفظ کریں گے اور فاشزم اور عسکریت پسندی کے احیاء کی ہر کوشش کی سختی سے مخالفت کریں گے۔

چین اور پاکستان مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا اور جامع و سب کے لیے فائدہ مند اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دیں گے، آزاد تجارت اور کثیرالجہتی تجارتی نظام کے اصولوں کا تحفظ کریں گے۔

دونوں ممالک عالمی موسمیاتی طرز حکمرانی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں قواعد و ضوابط اور نظام وضع کرنے کے عمل میں فعال کردار ادا کریں گے، عالمی جنوب کو اتحاد کے ذریعے مضبوط بنانے کی حمایت کریں گے اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات، بین الاقوامی انصاف اور مساوات کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے فروغ کے لیے مثالی تعاون

پاکستان نے باضابطہ طور پر شنگھائی تعاون تنظیم کی گردشی صدارت سنبھال لی ہے، جو ایس سی او خاندان اور پاکستان کی سفارت کاری دونوں کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

چین نے پاکستان کو اس ذمہ داری سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کی گردشی صدارت کی فعال حمایت کے لیے تیار ہے۔

چین ایس سی او کے فریم ورک کے تحت پاکستان کے ساتھ مثالی تعاون کو فروغ دینے اور عالمی طرز حکمرانی اقدام پر عملی طور پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔

اتحاد اور محاذ آرائی کے بجائے شراکت داری اور مکالمے کو ترجیح دیتے ہوئے، اور وسیع مشاورت، مشترکہ کردار اور مشترکہ فوائد کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے، تمام رکن ممالک کی مساوی شرکت اور مشترکہ فوائد کو فروغ دیا جائے گا۔

اس طرح ایس سی او کے عملی اقدامات کے ذریعے عالمی طرز حکمرانی کی اصلاح اور بہتری کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

سی پیک 2.0 اور عوامی خوشحالی کا نیا باب

چین اور پاکستان مشترکہ ترقی کے میدان میں ایک مثال بننے اور دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی و بہبود میں مزید اضافہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دونوں ممالک سی پیک 2.0 کی تعمیر کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ صنعت، زراعت، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ترقی، عوامی بہبود، جدت، سبز ترقی اور کھلے پن کے پانچ راہداریوں کی مشترکہ تعمیر کی جائے گی۔

دونوں ممالک بڑے اور نمایاں منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے مگر خوبصورت اور عوامی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہونے والے منصوبوں کو بھی مربوط انداز میں آگے بڑھائیں گے۔

بلوچستان میں “سو، ایک ہزار، ایک لاکھ پروگرام” کے تحت 100 آبی سہولیات کی تعمیر، ایک ہزار کلاس رومز کی اپ گریڈیشن اور ایک لاکھ اسکول سپلائی کٹس کی تقسیم جیسے منصوبوں کو شامل کیا گیا ہے۔

ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان کے تمام علاقوں کے عوام پاک چین تعاون کے ثمرات سے مستفید ہوں۔ یوں عوام پر مبنی اور عملی نقطۂ نظر کو ٹھوس اور قابلِ رسائی نتائج کے ذریعے حقیقت میں بدلا جائے گا۔

پاک چین تعلقات: غیر یقینی دنیا میں یقین کی علامت

ایک چینی کہاوت ہے کہ “اگر دنیا کی رفتار آگے نہ بڑھے تو زوال کی طرف جاتی ہے، اور اگر عالمی طرز حکمرانی ترقی نہ کرے تو پسپائی اختیار کرتی ہے۔”

عالمی طرز حکمرانی ایک نئے دوراہے پر پہنچ چکی ہے۔ ترقی کے بغیر پسپائی ہے اور سست رفتار ترقی بھی ایک طرح سے پسپائی کا باعث بن سکتی ہے۔

چین اپنے آہنی دوست پاکستان کے ساتھ مل کر بین الاقوامی صورتحال کی غیر یقینی کیفیت کا مقابلہ پاک چین تعلقات کے یقین اور مضبوطی سے کرنے کے لیے تیار ہے۔

دونوں ممالک عالمی طرز حکمرانی اقدام پر عمل درآمد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہیں گے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ مستقبل کی برادری کی تعمیر کی ایک روشن مثال قائم کریں گے اور بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کی برادری کی تعمیر کے لیے نئی اور مزید عظیم خدمات انجام دیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔