اسلام آباد (آئی پی ایس)اسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں 14 نوزائیدہ بچوں کی جان لینے والی آتشزدگی کے ذمے داروں کے خلاف آئندہ 2 سے 3 روز میں فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ حتمی رپورٹ میں انفرادی غفلت کا تعین کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی آئندہ 2 روز میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دے گی، جس سے معطل کیے گئے 8 افراد میں سے ہر ایک کی غفلت یا قصور کی نوعیت کا مکمل تعین ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے بعد ان 8 افراد کے خلاف انفرادی حیثیت میں مقدمات درج کیے جائیں گے۔طارق فضل چوہدری نے مزید بتایا کہ پولیس بھی اپنی تفتیش کر رہی ہے اور جلد ہی مزید حقائق سامنے آئیں گے۔وفاقی دارالحکومت میں محکمہ قانون بھی اس معاملے پر کام کر رہا ہے اور 2 سے 3 دن کے اندر فوجداری قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج شروع کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہونے والے اہم اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس افسوس ناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں عزم ظاہر کیا تھا کہ آتشزدگی کے واقعے میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب پائے جانے والے کسی بھی اہلکار کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
واقعے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر فرنٹ لائن کلینیکل عملے کو بچوں کو تنہا چھوڑنے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے، کیونکہ فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عملے نے فوری طور پر بچوں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ مزید پڑھیں:سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی وجہ اندرونی برقی نظام یا آلات ہو سکتے ہیں، لیکن دستیاب شواہد سے حتمی طور پر یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ آگ انکیوبیٹر، وارمر، ایئر کنڈیشنر، پلگ، ساکٹ یا کسی اور تار سے لگی۔ رپورٹ میں ادارہ جاتی سطح پر سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو فوری احتساب اور اصلاح کا تقاضا کرتی ہیں۔
ان خامیوں میں آگ سے بچا کی تیاری، ایمرجنسی ایگزٹس اور ان تک رسائی، ہنگامی اطلاع کا نظام، انخلا کی منصوبہ بندی، آگ بجھانے کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ کمیٹی نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ محض 7 ہفتے قبل بھی پمز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس وقت بھی بالکل انہی حفاظتی خامیوں کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی تھی، لیکن انتظامیہ نے انہیں دور کرنے کی زحمت نہیں کی۔
