اسلام آباد (آئی پی ایس )اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کی پولیس نے بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے سرکاری اسپتال کے باہر سے اغوا ہونے والی 8 ماہ کی معصوم بچی کو انتہائی قلیل وقت میں بحفاظت بازیاب کرا لیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی اس کارروائی میں بچی کے اغوا میں ملوث 2 خواتین سمیت 3 ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کی اس فوری پیش رفت کے نتیجے میں معصوم بچی کو محفوظ طریقے سے اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کی ہدایت پر ایس ایچ او آبپارہ کی زیر نگرانی ایک خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔پولیس ٹیم نے روایتی انسانی وسائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کا سراغ لگایا اور بنا کسی تاخیر کے انتہائی قلیل وقت میں بچی کو بحفاظت بازیاب کروا کر ملزمان کو پکڑ لیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
معصوم بچی کی باحفاظت واپسی پر والدین جذبات سے مغلوب ہو گئے اور انہوں نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کی جانے والی بروقت، مثر اور شاندار کارروائی پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی فوری مستعدی اور محنت کی وجہ سے ان کی 8 ماہ کی بچی بحفاظت ان کی گود میں واپس آ سکی ہے۔
اس اہم کامیابی پر بات کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے واضح کیا کہ دارالحکومت میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی نافذ ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال، بالخصوص خواتین اور بچوں کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ایسے معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریضوں اور ان کے لواحقین کی آمد و رفت کے باعث ماضی میں بھی بچوں کو ورغلا کر یا دھوکے سے اغوا کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔خاص طور پر اسپتالوں کے باہر متحرک بظاہر ہمدرد بننے والے گروہ معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
تاہم حالیہ عرصے میں اسلام آباد پولیس نے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے نظام کو مضبوط بنایا ہے، جس کے باعث اس واقعے میں بھی جدید تکنیکی ذرائع استعمال کر کے ملزمان کو ریکارڈ وقت میں گرفتار کیا جانا ممکن ہو سکا ہے۔
