ہومبریکنگ نیوزبجلی چوری کا توڑ ، حکومت فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمز کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کی تیاری کررہی ہے : اویس لغاری

بجلی چوری کا توڑ ، حکومت فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمز کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کی تیاری کررہی ہے : اویس لغاری

اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر 14 ہزار فیڈرز ہیں، جن میں سے 3 ہزار 400 ایسے ہیں جہاں بجلی چوری زیادہ ہے اور ان فیڈرز پر سالانہ بنیادوں پر اقتصادی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ ان ساڑھے 3 ہزار کے قریب فیڈرز پر 2 گھنٹے سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی لوڈشیڈنگ کا مستقل حل یہ ہے کہ فیڈر کی سطح کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے، تاکہ جو صارف بجلی کا بل ادا کرتا ہے اسے بجلی ملے اور جو بل ادا نہیں کرتا اسے بجلی نہ دی جائے، جبکہ پورے فیڈر کے صارفین کو سزا نہ بھگتنا پڑے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے تقریبا 60 ارب روپے کی لاگت سے 3 ہزار 400 فیڈرز پر ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ منتقل کرنے کا پروگرام ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایات دی ہیں، جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔

اویس لغاری کے مطابق یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی اور اس منصوبے کو اگلے سال اگست تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔انہوں نے کہا کہ اپریل میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سامنے آیا تھا، اس وقت پانی سے بجلی کی پیداوار کم تھی جبکہ ایران اور امریکا کی جنگ کے باعث گیس کی فراہمی کے معاملات بھی متاثر ہوئے تھے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایل این جی کا انتظام ہونے کے بعد 28 اپریل کو لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا اور مئی، جون اور جولائی کے دوران بھی صورتحال بہتر رہی۔ اس دوران قطر سے معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو حاصل کیے گئے جبکہ آبنائے ہرمز میں مسائل کے دوران اسپاٹ پر مہنگی گیس بھی خریدی گئی تاکہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نہ ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔