اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)کے صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں ایک وفد نے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے،چیف کمشنر اسلام آباد لیفٹیننٹ (ر)سہیل اشرف سے ملاقات کی اور کاروباری برادری کے حل طلب مسائل، بالخصوص ایف اے آر چارجز، پارکنگ ایریا، جائیداد کی وراثتی منتقلی اور جنرل پاور آف اٹارنی سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران چیئرمین سی ڈی اے نے آئی سی سی آئی وفد کو یقین دہانی کرائی کہ فلور ایریا ریشوچارجز کے دیرینہ مسئلے کو منگل کو ہونے والے سی ڈی اے بورڈ اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاکہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے اور سرمایہ کاروں، بلڈرز اور پراپرٹی مالکان کو سہولت فراہم کی جائے گی۔ملاقات میں پارکنگ ایریا کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے اصولی طور پر پارکنگ کی مقررہ جگہ 750 مربع فٹ سے بڑھا کر 1,000 مربع فٹ کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس حوالے سے پہلے ہی منظوری موجود ہے تاہم اس کا اطلاق پہلے الاٹ کیے گئے پلاٹس پر ماضی سے نہیں کیا گیا۔ اس معاملے کو بھی سی ڈی اے بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ مطلوبہ شرائط پوری کرنے والے ایسے منصوبوں کو بھی اس سہولت سے فائدہ پہنچایا جا سکے جن کی ڈرائنگز اب جمع کرائی جا رہی ہیں۔وراثتی منتقلی کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر ویلیو کے 0.25 فیصد کے حساب سے وصول کی جانے والا وراثتی منتقلی کی فیس، جو خاندان کے قانونی وارثوں خصوصا بچوں کے نام جائیداد کی منتقلی پر عائد ہوتی ہے، ختم کرنے کی تجویز سی ڈی اے بورڈ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس اقدام سے شہریوں کو نمایاں مالی ریلیف ملے گا اور وراثتی جائیداد کی منتقلی کا عمل آسان ہوگا۔اسی طرح خونی رشتوں کے درمیان جنرل پاور آف اٹارنی پر عائد 0.25 فیصد فیس ختم کرنے کی تجویز پر بھی چیئرمین سی ڈی اے نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ دونوں تجاویز سمیت دیگر متعلقہ معاملات کی باضابطہ منظوری کے لیے منگل کے سی ڈی اے بورڈ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے چیئرمین سی ڈی اے کے مثبت ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری ایسے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات کی خواہاں ہے جو کاروبار کی لاگت کم کرنے، غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرنے اور اسلام آباد میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات، رئیل اسٹیٹ، کمرشل سرگرمیوں اور روزگار کے فروغ کے لیے کاروبار دوست ریگولیٹری ماحول ناگزیر ہے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ نجی شعبہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری ادارے پالیسیوں میں تسلسل، طریقہ کار میں آسانی اور معقول چارجز کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے سے متعلق مسائل کا حل کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، معاشی سرگرمیوں اور حکومتی محصولات میں اضافے کا بھی باعث بنے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے مزید یقین دہانی کرائی کہ منگل کو سی ڈی اے بورڈ اجلاس کے فیصلوں سے آگاہی اور مجوزہ ریلیف اقدامات پر پیش رفت کے لیے آئی سی سی آئی کا وفد صدر سردار طاہر محمود کی قیادت میں دوبارہ ان سے ملاقات کرے گا۔آئی سی سی آئی کے وفد میں محمد اسرار مشوانی، چیئرمین آئی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے رئیل اسٹیٹ اور دیگر سینئر ممبران شامل تھے۔
