ہومتازہ ترینچین کا عالمی سطح پر صحرائی زمینوں کی بحالی اور صحرا زدگی سے نمٹنے کے لیے "چینی حل" فراہم کرنے کا عزم

چین کا عالمی سطح پر صحرائی زمینوں کی بحالی اور صحرا زدگی سے نمٹنے کے لیے “چینی حل” فراہم کرنے کا عزم

بیجنگ:چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیئن نے معمول کی پریس کانفرنس کی۔ منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں اقوام متحدہ کے صحرا زدگی کی روک تھام سے متعلق کنونشن کے فریق ممالک کی 17ویں کانفرنس کے آغاز اور عالمی سطح پر صحرا زدگی سے نمٹنے میں چین کے کردار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر لن جیئن نے کہا کہ صحرا زدگی کی روک تھام اور زمین کی بحالی انسانیت کی پائیدار ترقی سے متعلق ایک اہم فریضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کے صحرا زدگی کی روک تھام سے متعلق کنونشن کا فریق ہونے کی حیثیت سے کنونشن کی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کرتا ہے اور

صحرا زدگی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فعال طور پر فروغ دیتا ہے۔چین “سرسبز پہاڑ اور صاف پانی انمول اثاثے ہیں ” کے تصور پر قائم رہتے ہوئے دنیا میں سب سے پہلے زمین کے انحطاط میں “صفر اضافہ” حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہوا ہے، جبکہ صحرائی بنجر زمین اور ریتلی زمین دونوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس طرح چین نے 2030 تک زمین کے انحطاط میں صفر اضافے کے عالمی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے۔کنونشن کے سیکریٹریٹ نے چین کو دو مرتبہ ” صحرا زدگی کی روک تھام میں نمایاں خدمات کا ایوارڈ” دیا ہے اور اسے “دنیا میں صحرا زدگی کی روک تھام کے لیے چین کو دیکھیں” کے الفاظ میں سراہا ہے۔چین اقوام متحدہ کے صحرا زدگی کی روک تھام کے کام میں فعال شراکت دار ہے اور بھرپور حمایت کرتا ہے، دنیا کے ساتھ صحرا زدگی اور صحرائی بنجر پن سے نمٹنے کے اپنے تجربات شیئر کر رہا ہے، ٹیکنالوجی کو فروغ دیتا ہے اور افرادی قوت کی تربیت کر رہا ہے، جس سے گلوبل ساؤتھ میں مشترکہ طور پر سبز ترقی کے فروغ کے لیے مضبوط تحریک پیدا ہو رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔