ہومتازہ ترینایرانی مسلح فوج کا امریکا اور اسرائیل کیخلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان،خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

ایرانی مسلح فوج کا امریکا اور اسرائیل کیخلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان،خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

تہران /واشنگٹن /اسلام آباد (سب نیوز)ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا اور اسرائیل کو مکمل شکست دینے اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے اتوار کو 1980 کی دہائی کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی جنگی قیدیوں کی وطن واپسی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بیان میں سابق جنگی قیدیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔جنرل اسٹاف نے 8 سالہ جنگ کو ایرانی عوام کے لیے باعثِ فخر، قومی وقار اور شناخت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے تجربے نے خود انحصاری، آزادی کی جستجو، ظلم کے خلاف مزاحمت، رہبر سے وفاداری اور بصیرت کی علامت کی حیثیت اختیار کی۔ ایرانی جنرل اسٹاف نے مزید کہا کہ ایرانی نوجوانوں نے دنیا کی سب سے زیادہ جدید اسلحے سے لیس فوج اور مجرم امریکا کے خلاف مزاحمت کی۔ بیان کے مطابق یہ مزاحمت شہید رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی اپیل پر کی گئی اور رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی قیادت میں ایرانی نوجوانوں نے دشمن کے رہنماں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔

بیان میں ایرانی قوم کے ثابت قدم عزم کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ مسلح افواج امریکا کا مقابلہ کرتے ہوئے ایرانی عوام اور رہبر کے جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مغربی ایشیا میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی مسلح افواج خطے میں امریکی اور اسرائیلی دشمنوں کی مکمل شکست، ایرانی عوام کے حقوق کے حصول اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔ ایرانی جنرل اسٹاف کے بیان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے فروری 2026 کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔ اس دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلی حکام اور فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔بیان کے مطابق امریکا اور اسرائیل تقریبا 40 روز بعد، اپریل 2026 کے آغاز میں ایران کی جوابی فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی مضبوط گرفت کے باعث جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے مزید کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود ایران اپنے قومی اور جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور امریکی و اسرائیلی مخالفین کی مکمل شکست، ایرانی عوام کے حقوق کے حصول اور دشمن کے ہتھیار ڈالنے تک مزاحمت جاری رکھنے کا عزم برقرار ہے۔

ادھر مشرقِ وسطی میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا سے جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے پر عمل درآمد کی شرط عائد کردی ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے طویل عرصے سے تعینات طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو خطے میں بھیج دیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ اس بات سے مشروط ہوگا کہ امریکا جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے کی پاسداری کرتا ہے یا نہیں۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت بدستور شدید متاثر ہے اور اس معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران کا مقف ہے کہ آبنائے پر اس کا کنٹرول برقرار رہے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں آبنائے پر امریکی کنٹرول کی بات بھی کی ہے۔ اس صورت حال نے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ادھر جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں نے جون میں ہونے والی جنگ بندی کو ایک بار پھر شدید دبا میں ڈال دیا ہے۔ 15 اگست کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 19 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی میڈیا نے اسے جون میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد لبنان میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز اسرائیلی حملہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملے حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ لبنانی حکام نے شہریوں کو نشانہ بنانے اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالنے پر شدید مذمت کی ہے۔دوسری جانب امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن بحرِ عرب کی جانب بڑھ رہا ہے تاکہ طویل عرصے سے خطے میں موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے۔ لنکن تقریبا 250 دن سے مسلسل سمندر میں تعینات ہے اور اس کے عملے کی ذہنی صحت، طویل تعیناتی اور زندگی کے حالات پر امریکا میں تشویش سامنے آچکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جارج واشنگٹن کی تعیناتی اسی سلسلے میں کی جارہی ہے۔

ادھر قطر نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے کہ اس نے مارچ میں طیارے گرائے جانے کے بعد 3 ایرانی پائلٹوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلاش اور امدادی کارروائیوں کے دوران ایک پائلٹ کی باقیات ملی تھیں اور انہیں ایران کے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم تہران کی جانب سے تاحال تعاون نہیں کیا گیا۔فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں اسرائیلی آبادکاروں کے محاصرے میں پھنسے فلسطینی خاندانوں تک اقوام متحدہ کی جانب سے کچھ امداد پہنچائی گئی ہے۔ قصرہ کے علاقے میں متعدد خاندان کئی روز تک گھروں میں محصور رہے اور پانی، بجلی اور بنیادی اشیائے ضروریہ تک رسائی متاثر ہوئی۔ رائٹرز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے بعض مقامات پر مداخلت کی، تاہم آبادکاروں کی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث شہریوں کے تحفظ کے خدشات برقرار ہیں۔اس تمام صورت حال کے درمیان سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ قطر اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق پاکستان نے بھی حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔