ہومتازہ تریننئے صوبوں کے قیام سے کسی کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، وفاقی وزیر سردار یوسف

نئے صوبوں کے قیام سے کسی کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، وفاقی وزیر سردار یوسف

ایبٹ آباد(سب نیوز)صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے پورے ہزارہ کے عوام کا فیصلہ ہے کہ صوبے بنائے جائیں لیکن سب سے پہلے ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے۔میری وزیر اعظم سے بھی بات ہوئی ہے۔ وہ بھی اس حوالے سے اجلاس بلائیں گے۔ این ایف سی ایوارڈ کے ڈھائی سو سے تین سو ارب ہزارہ کا حق ہے۔ ہمارا صوبہ خود کفیل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے حویلیاں ایبٹ آباد میں صوبہ ہزارہ تحریک کی سپریم کونسل کے اجلاس بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے مشتاق غنی، سردار شاہ جہان یوسف، پروفیسر سجاد قمر مرکزی کوآرڈینیٹرافتخار عباسی سابق تحصیل چیرمین، اورنگزیب نلوٹھہ سابق ایم پی ایپیر صابر شاہ سابق وزیر اعلینوبزادہ ولی محمد سابق ایم پی اے۔ مسلم لیگ مانسہرہ کے صدر سید جنید قاسمسردار سید غلام،ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ جدون، ایم پی اے فائزہ ملک، سابق ایم پی اے سردار ظہور آحمد، سابق ایم پی اے نرگس بی بی، سابق ایم این ایسردار مشتاق، نرگس کاظمی ،نعیم سخی تنولی ،جمروز گجرشیخ شفیع، کوآرڈینیٹر کوہستانپرنس فضل حق، مولانا عطاالرحمانسردار قاسم، جمروز خان، قاری محبوب الرحمن، محمد صادق، سردار لیاقت شباب، قاضی محمد صادق، میاں عنایت الرحمن، چوہدری ماجد مختار، سابق چیرمین حویلیاں عزیر شیر خان جدون، میاں خان عاجز ، سردار شاہ خان سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں متفقہ قرارداد پیش کی گئی کہ سب سے پہلے ہزارہ صوبہ بنایا جائے۔ اس لیے کہ کے پی کے اسمبلی تین دفعہ صوبہ ہزارہ کی قرارداد پیش کر چکی ہے جبکہ سینٹ اور قومی اسمبلی میں بل موجود ہیں۔ ہزارہ صوبہ کوہستان سے ہری پور تک بننا چاہیے، اس کے علاوہ کوئی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ہمارے عوام پہلے بھی احتجاج کر چکے ہیں اب بھی اگر ضرورت محسوس کی گئی تو ہم دوبارہ احتجاج کریں گے۔ یہ قرارداد مشتاق غنی نے پیش کی جو متفقہ طور پر پاس کی گئی۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ وہ واحد خطہ ہے جو تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ واحد علاقہ ہے جہاں کی تمام سیاسی ، مذہبی اور علاقائی قیادت ہزارہ صوبہ پر متفق ہے۔ سات لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر جو تحریک شروع کی تھی آج پورے ملک میں اس کا چرچا ہے۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ صوبہ کوہستان سے شروع ہو کر ہری پور تک بنے گا۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت قبول نہیں ہے۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ ان کی وزیراعظم میاں شہباز شریف سے بات ہوئی تھی اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ جلد اس حوالے سے اجلاس بلائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں مرتضی جاوید عباسی اور علی خان جدون نے ہزارہ صوبہ کا بل پیش کی جس پر احسن اقبال، مریم اورنگ زیب سمیت پارٹی قیادت کے دستخط موجود ہیں، سینٹ میں بھی ہمارا بل موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہزارہ صوبہ خود کفیل ہو گا، ڈھائی سو سے تین سو ارب روپے این ایف سی ایوارڈ میں ہزارہ کا حصہ ہے۔ حطار انڈسٹری سے اربوں روپے ٹیکس حکومت کو جا رہا ہے۔ اگر صوبہ بنا تو چار سو ارب روپے تک سرمایہ کاری ہو گی اور چالیس ارب تک ریونیو ملے گا۔ یورپ سیاحت کے بل بوتے پر چل رہا ہے۔

ہزارہ صوبہ دنیا کا بہترین سیاحتی مرکز ہے ۔ یہاں جب انفراسٹرکچر بنے گا تو پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر، سابق وزیر اعلی پیر صابر شاہ، سید جنید علی قاسم، نواب زادہ ولی محمد، سردار ظہور احمد، ڈاکٹر شائستہ جدون، فائزہ ملک ، سردار شاہ جہان یوسف،قاری محبوب الرحمن نے کہا کہ لسانیات اور کلچر ایک اہم جزو ہے لیکن ہم لسانی یا نسلی بنیادوں پر صوبہ نہیں چاہتے اس سے خدانخواستہ ملک کمزور ہو گا۔ ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ ویسے بھی ہزارہ میں ہندکو، گوجری، پشتو، شینا، کوہستانی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور سترہ قبائل بستے ہیں۔اس لیے کسی کا یہ کہنا کہ یہ لسانی بنیاد پر ہے بالکل بھی درست نہیں۔ ہزارہ صوبہ تحریک موجودہ عہد میں سب سے مضبوط تحریک ہے۔ ہمارا مقدمہ ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔ صوبے بننے چاہیے ہیں لیکن سب سے پہلے ہزارہ صوبہ بننا چاہیییے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بہترین موقع ہے۔ پارلیمنٹ میں جتنی جماعتیں موجود ہیں وہ سب ہزارہ صوبہ کی حمایت کرتی ہیں اور ان کے سربراہان ہزارہ میں جا کر اس کی حمایت کر چکے ہیں۔ اور بتایا کہ ہمارا صوبہ ہر لحاظ سے خود کفیل ہو گا۔ پاکستان کی نیک نامی لا باعث بنے گا۔ اور سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ جتنا کسی اور جگہ سے نہیں آتا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔