راولپنڈی(آئی پی ایس )پاکستان مسلم لیگ (ضیا) کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد اعجاز الحق نے کہا ہے کہ شہید صدر جنرل محمد ضیا الحق نے ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ، افغان جہاد اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے جیسی عظیم خدمات انجام دیں جنہیں تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔38 سال گزرنے کے باوجود عوام آج بھی قاتل کے متلاشی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاک امریکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی 350 صفحات پر مشتمل رپورٹ (جس کے 37 صفحات انتہائی اہم ہیں)، جسٹس شفیع الرحمن کمیشن رپورٹ اور پاک فوج و پنجاب حکومت کی انکوائری رپورٹس کو فوری منظر عام پر لایا جائے کیونکہ یہ ایک بڑی سازش تھی جس کے حقائق اب تک دانستہ طور پر پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنرل ضیا الحق اور شہدائے بہاولپور کی 38ویں برسی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 17 اگست کو راولپنڈی میں جنرل ضیا الحق شہید، تیری عظمت کو سلام کے عنوان سے سیمینار اور شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں خصوصی دعائیہ تقریب منعقد کی جائے گی۔
ملکی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اعجاز الحق نے زور دیا کہ موجودہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے جیل میں موجود شخص کی پارٹی سمیت تمام سیاسی قوتوں سے ڈائیلاگ اور میثاقِ معیشت ناگزیر ہے، کیونکہ تلخیاں صرف بات چیت سے ہی ختم ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے معاملات پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا کے دور میں 9 صوبوں کی بات شروع ہوئی تھی، جبکہ 18ویں ترمیم تو کر لی گئی مگر صوبوں کو اس کے لیے تیار نہ کرنے کی وجہ سے آج بھی انتظامی مشکلات برقرار ہیں۔ عالمی منظر نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے ایران کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت دیگر اسلامی ممالک غزہ بننے سے بچ گئے۔ انہوں نے مکہ معاہدے کو مسلم امہ کی خود انحصاری کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی صلح کے لیے ٹرمپ کا پاکستان کو ثالث بنانا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ آخر میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ مجاہدین اور طالبان کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔
