نیو یارک (آئی پی ایس)ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہوگئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت تقریبا رک گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکا سے جنگ میں شکست کی حقیقت تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف تہران کے پاس ہے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جنگ جاری رہنے کے دوران انہیں پیٹرول کے لیے کچھ زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جب تک امریکا شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرتا اور خیالی تصورات سے باہر نہیں آتا، ایران آبنائے ہرمز میں اپنی پابندی برقرار رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے اور جنگ سے قبل دنیا کے تقریبا پانچویں حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا تھا۔ رائٹرز کے مطابق جمعہ کو صرف دو بحری جہاز آبنائے سے گزرے اور ان میں خام تیل کی ترسیل نظر نہیں آئی، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ 130 سے زیادہ جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے تھے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے نیویارک میں سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکیوں کو پیٹرول کی کچھ زیادہ قیمت برداشت کرنا ہوگی۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.08 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔
