اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف نے کہا ہے کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر محض ایک مدبر اور فوجی رہنما ہی نہیں بلکہ شاعر، مصنف، مفکر اور فطرت و معاشرے کے گہرے مشاہد تھے، جن کا ورثہ آج بھی وسطی اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔وہ اسلام آباد میں بابری فورم کے زیر اہتمام ظہیر الدین محمد بابر: مشترکہ تہذیبی ورثہ اور پاک ازبک تعلقات کے لیے پل کے عنوان سے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ازبک سفیر نے کہا کہ بابر کی ادبی شاہکار تصنیف بابر نامہ قرونِ وسطی کی مسلم دنیا کی اہم ترین خودنوشت اور تاریخی تصانیف میں شمار ہوتی ہے، جس میں وسطی ایشیا اور برصغیر کے بارے میں غیر معمولی معلومات اور مشاہدات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ تاریخی داستان کے مرکز میں ظہیر الدین بابر کی شخصیت نمایاں ہے، جو موجودہ ازبکستان کے شہر اندیجان کے فرزند تھے اور جن کی غیر معمولی زندگی نے وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے ایک منفرد انداز میں جوڑا۔تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت فرح ناز اکبر، بابر انٹرنیشنل پبلک فانڈیشن کے ڈپٹی چیئرمین رستم ماماسولیو، بابری فورم کے صدر رمضان مغل سمیت پاکستان اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرین، مورخین اور محققین نے شرکت کی۔سفیر علی شیر تختائیف نے ازبکستان سے آنے والے مورخین اور دانشوروں کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے علمی و تحقیقی تبادلے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور فکری روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بابر اور ان کا ورثہ ملک کی شاندار تہذیبی تاریخ کا اہم حصہ ہے جبکہ ازبکستان کے لیے بابر عالمی تاریخ اور ثقافت میں ازبک قوم کے کردار کی ایک اہم علامت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بابر محض ایک تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ دونوں ممالک کے مشترکہ تہذیبی ورثے کے طور پر دونوں اقوام کو جوڑتے ہیں۔ازبک سفیر نے کہا کہ بابر اور ان کے خاندان کے دور نے جنوبی ایشیا کے فن تعمیر، ادب، فنون لطیفہ، طرز حکمرانی، سائنس اور ثقافت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے، جن کے نقوش آج بھی پاکستان اور خطے کے ثقافتی منظرنامے میں نمایاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ ورثہ صرف ایک خاندان یا تاریخی دور تک محدود نہیں بلکہ اس میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان صدیوں پر محیط علمی، ادبی، روحانی، تعمیراتی اور تجارتی روابط بھی شامل ہیں۔علی شیر تختائیف نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی نشستیں صرف تاریخ کے مطالعے کے لیے ہی نہیں بلکہ اس امر کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہیں کہ ماضی کو موجودہ دور میں دوستی اور تعاون کی بنیاد کے طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بابر اور بابر ی دور سمیت دونوں ممالک کے مشترکہ تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور اس کی تشہیر کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ازبک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات جدید سفارتی روابط سے کہیں زیادہ گہرے ہیں اور ان کی بنیاد صدیوں پر محیط باہمی روابط، علمی تبادلے، ثقافتی قربت اور عوامی تعلقات پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات ایک نئے اور متحرک مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ صدر ازبکستان شوکت مرزیایوف اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلی سطح کے باقاعدہ رابطوں، باہمی دوروں اور قریبی سیاسی مکالمے نے تجارت و سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ و رابطہ کاری، تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔سفیر نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانا باہمی اعتماد اور دونوں ممالک کے مضبوط اور جامع تعلقات کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ تاریخی ورثہ صرف ماضی کا معاملہ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک اہم اثاثہ بھی ہے۔
بابر کی داستان اس بات کا ثبوت ہے کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کبھی ایک دوسرے سے الگ تھلگ خطے نہیں رہے بلکہ عوام، خیالات، ثقافت اور تاریخ کے ذریعے ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے مشترکہ ورثے کو علمی تعاون، مشترکہ تحقیق، ثقافتی تبادلوں، سیاحتی روابط اور تعلیمی شراکت داری کے نئے مواقع میں تبدیل کریں۔علی شیر تختائیف نے کہا کہ دونوں ممالک کے مورخین، دانشور اور ثقافتی ادارے ان اقدامات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابر کی زندگی کا آغاز اندیجان سے ہوا اور بالآخر وہ برصغیر پہنچے۔ صدیوں بعد وسطی اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والا یہ تاریخی سفر اب دو خودمختار اور دوست ممالک کے درمیان جدید شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ازبک سفیر نے کہا کہ بابر صرف ہمارے مشترکہ ماضی کی شخصیت نہیں بلکہ ہمارے مشترکہ مستقبل کے لیے بھی ایک پل بن سکتے ہیں۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بابر کے ورثے کے مطالعے، تحفظ اور فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا تاکہ پاکستان اور ازبکستان کی آئندہ نسلیں اپنی باہم جڑی ہوئی تاریخ اور تہذیب کی گہرائی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔بابری فورم کے صدر رمضان مغل نے کہا کہ فورم ایک علمی اور ادبی پلیٹ فارم ہے جو ادب اور تحقیق کے لیے کام کر رہا ہے اور پاکستان و ازبکستان کے درمیان ثقافتی و تہذیبی فاصلے کم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فورم مشترکہ ثقافتی اور تاریخی ورثے کے ذریعے جدید ازبکستان اور پاکستان کو مزید قریب لانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔رمضان مغل نے کہا کہ ان کا مقصد اس تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو نوجوان نسل تک منتقل کرنا اور انہیں مشترکہ ادب، شاعری اور ان شخصیات سے روشناس کرانا ہے جو دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں، تاکہ نوجوان اپنی تاریخی جڑوں سے دوبارہ جڑ سکیں۔کانفرنس کے اختتام پر پاکستان اور ازبکستان کے درمیان علمی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے اور ظہیر الدین محمد بابر کے مشترکہ ورثے کو دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی بنیاد بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
