ہومپاکستانانڈونیشیا کے یومِ آزادی کی تیاریاں، طلبہ میں شامل انڈونیشین نوجوانوں کی پسکیبرا حلف برداری

انڈونیشیا کے یومِ آزادی کی تیاریاں، طلبہ میں شامل انڈونیشین نوجوانوں کی پسکیبرا حلف برداری

اسلام آباد(سب نیوز)انڈونیشیا کے سفارتخانے اسلام آباد میں انڈونیشیا کے 81ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں پرچم کشائی دستے پسکیبراکی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان میں زیرِ تعلیم انڈونیشین طلبہ نے شرکت کی۔تقریب کی سربراہی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی کرنل ہینرو ایچ سوسانٹو نے بطور انسپکٹر آف دی سیریمنی کی۔ تقریب میں انڈونیشین سفارتکاروں، ان کی شریکِ حیات، سفارتخانے کے عملے اور انڈونیشین طلبہ نے شرکت کی۔پسکیبرا دستہ انڈونیشیا میں ہر سال یومِ آزادی کی تقریبات کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے اور یہ روایت دنیا بھر میں قائم انڈونیشین سفارتی مشنز میں بھی جاری ہے۔ اس کا مقصد نوجوان نسل کو قومی تقریبات میں شریک کرکے ان میں ملک سے وابستگی، فخر اور قومی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنا ہے۔حلف برداری کے دوران دستے کے ارکان نے انڈونیشیا کی قومی شناخت کے چار بنیادی ستونوں، یعنی پانکاسیلا (ریاستی نظریہ)، جمہوریہ انڈونیشیا کی وحدت، 1945 کا آئین اور اتحاد میں تنوع سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔

پاکستان میں اپنے وطن سے ہزاروں کلومیٹر دور رہنے اور تعلیم حاصل کرنے والے ان نوجوانوں کے لیے یہ حلف خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تقریب ان کی انڈونیشیا سے مسلسل وابستگی اور ملک کی نمائندگی وقار اور ذمہ داری کے ساتھ کرنے کے عزم کی عکاس ہے۔کرنل ہینرو سوسانٹو نے تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم سویلین طلبہ کو تربیت دینا نظم و ضبط اور رابطہ کاری کے حوالے سے چیلنجنگ ضرور ہے، تاہم ان کے جوش، عزم اور سیکھنے کی خواہش پسکیبرا دستے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال پرچم کشائی دستے میں خواتین کی تعداد نمایاں ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انڈونیشین خواتین بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کی خدمت کے لیے جنس نہیں بلکہ ثابت قدمی، عزم، نظم و ضبط اور ذمہ داری اہم ہیں۔پسکیبرا دستے کی رکن اور لاہور گرامر اسکول اسلام آباد کی طالبہ ماویہ نے کہا کہ دستے کا حصہ بننا ان کے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 17 اگست کو سفارتخانے کی یومِ آزادی کی تقریب میں اہم ذمہ داری ادا کرنے پر پرجوش ہیں، اگرچہ اس حوالے سے کچھ گھبراہٹ بھی محسوس ہو رہی ہے۔پرچم کشائی دستے نے تقریبا ایک ماہ تک بھرپور تربیت اور مسلسل ریہرسل کی، جس کے دوران دستہ سازی، باہمی رابطہ، نظم و ضبط اور قومی پرچم کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ یومِ آزادی کی تقریب میں ہر حرکت مکمل درستگی اور وقار کے ساتھ انجام دی جا سکے۔دستے کی ایک اور رکن اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ دِندا نے بتایا کہ انہوں نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک روزانہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک مشق کی۔ انہوں نے کہا کہ تربیت تھکا دینے والی ضرور تھی، تاہم انہیں انڈونیشیا کے سرخ و سفید پرچم کو یومِ آزادی کی تقریب میں سربلند کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع روایتی انڈونیشین کھانوں سے کی گئی، جس کے ذریعے انڈونیشیا کے بھرپور ثقافتی اور غذائی ورثے کو بھی اجاگر کیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔