اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے متعلق اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چیئرمین سی ڈی اے سمیت اعلی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں موجودہ قانون پر نظرثانی اور نئے قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے متعلق قانونی سازی کے لیے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا، اور وزیر خزانہ نے ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ذیلی کمیٹی وزارت داخلہ، وزارت قانون و انصاف اور سی ڈی اے کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی، جو مختلف قانونی آپشنز کا جائزہ لے گی۔وزیر قانون کے مطابق ذیلی کمیٹی 20 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔وزیر قانون نے کہاکہ ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کا جائزہ لیا جائے گا۔ جبکہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن بھی جائزے میں شامل ہے۔
وزیر قانون نے مزید کہاکہ اسلام آباد کو پاکستان کا ماڈل سٹی بنانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا ریگولیٹری نظام جامع طور پر بہتر بنایا جائے، شہریوں کے پراپرٹی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ کم لاگت ہاوسنگ کے لیے موثر قانونی فریم ورک ضروری ہے، جبکہ ہاوسنگ فنانس اور پراپرٹی ملکیت میں شہریوں کو سہولت دی جائے۔
انہوں نے کہاکہ ریئل اسٹیٹ نظام شفاف، موثر اور عوام دوست ہونا چاہیے۔وزیر قانون کے مطابق عوام کے مفادات کا تحفظ اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت، سی ڈی اے اور نجی شعبہ اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون نے ریگولیٹری اتھارٹی معاملے پر مزید غور کی ہدایت کردی۔
رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے متعلق قانون سازی، حکومت کا مزید مشاورت کا فیصلہ، ذیلی کمیٹی قائم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
