ہومتازہ ترینامریکی سفارتخانے کی جانب سے زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاک امریکہ اشتراک کے مواقع اجاگر

امریکی سفارتخانے کی جانب سے زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاک امریکہ اشتراک کے مواقع اجاگر

اسلام آباد(سب نیوز) امریکی مشن پاکستان کی جانب سے خوشحالی کے نصب العین کے تحت رواں ہفتے ایک ڈائریکٹ لائن ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں، پاکستان کے سرکاری اہلکاروں اور زرعی پیداوار سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ ویبینار میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے پاکستان کے زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکی کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا۔ بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کی جانب سے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے، امریکی محکمہ تجارت اور حکومت پاکستان کے اشتراک سے منعقد کیے جانے والے ویبینار میں اِس امر کواجاگر کیا گیا کہ کس طرح زرعی شعبے میں امریکی جدت طرازی پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں معاونت اور دونوں ملکوں کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

اپنے خطاب میں ناظم الامور بیکر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا مجموعی ملکی پیداوارمیں تقریبا ایک چوتھائی حصہ ہے اور جو لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ اس شعبے کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت کے لیے مواقع میں اضافہ نہ صرف امریکی کمپنیوں کے لیے سودمند ہوگا بلکہ اس سے پاکستان کے لیے بھی نئی منڈیوں کے دروازے کھلیں گے۔ ناظم الامور کا کہنا تھا کہ اپنی مہارت، ٹیکنالوجی اور کئی دہائیوں پر محیط عملی تجربے کی بنیاد پرامریکہ کی کمپنیاں زراعت کے شعبے میں مثر کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت سے مالامال ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکی اختراعات، جن میں بہترین زرعی مشینری، آبپاشی کا جدید نظام، ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ، اور کولڈ چین لاجسٹکس کسانوں کو اپنیقیمتی وسائل محفوظ رکھتے ہوئے پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔پاکستان میں امریکی مشن آنے والے دنوں میں، پہلے سے ہی مضبوط دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دینے کاارادہ رکھتا ہے جیسا کہ میں پاکستان کی جانب امریکی زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

ویبینار میں شریک پاکستانی نمائندوں نے ایسی ریگیولیٹری اور پالیسی تبدیلیوں کو اجاگر کیا جو سویابین، کپاس اور بیج سمیت امریکی زرعی مصنوعات کی درآمدات میں اضافے میں معاونت کر سکتی ہیں۔ انہوں نیکھیتوں کے لیے مشینی سہولیات ، کنٹرولڈ ماحولیاتی گوداموں، خوراک کی پراسیسنگ، بیج کی تیاری اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ ناظم الامور بیکر نے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں امریکی سرمایہ کاری اور مصنوعات کی برتری کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ جب امریکی کمپنیاں نئی منڈیوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرواتی ہیں تو وہ دراصل معلومات، مقامی شراکت داروں کی تربیت اور دیرپا کاروباری تعلقات کا قیام اور پائیدار معاشی ترقی میں اپنا کردارادا کرتی ہیں۔ویبینارمیں پاکستان کیلئے امریکی محکمہ تجارت کے سرٹیفائیڈ ایگریکلچرل ٹیکنالوجیز ٹریڈ مشن کا پیشگی جائزہ بھی لیا گیا جو بی سی آئی یو کی قیادت میں اس سال چھبیس سے لے کرتیس اکتوبر تک منعقد ہو گا۔ سی ڈی اے بیکر نے امریکی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی زرعی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کا براہِ راست مشاہدہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں امریکی سفارتخانہ میں ہماری اولین ترجیح امریکی کمپنیوں کی معاونت کرنا ہے، جب وہ پاکستان کے زرعی شعبے میں مواقع تلاش کر رہی ہوں۔انہوں نے ویبینار میں شرکت کرنے کیلئے بی سی آئی یو، حکومتِ پاکستان، پنجاب اور سندھ کے صوبائی حکام، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل،گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کے نمائندوں اور امریکی کاروباری اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔