اسلام آباد:(سب نیوز) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی دارالحکومت میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک کی روانی، ایمرجنسی سروسز اور سی ڈی اے کی مالی خود انحصاری سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی کے لیے اسلام آباد میں دو نئے انڈر پاسز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ کشمیر چوک اور فیصل مسجد انڈر پاس منصوبوں پر باقاعدہ تعمیراتی کام آئندہ ماہ شروع کیا جائے تاکہ شہریوں کو جلد از جلد سہولت میسر آ سکے۔
محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایمرجنسی 1122 کا باقاعدہ اور مؤثر سیٹ اپ موجود نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر ایک فعال اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تقاضے جلد مکمل کرکے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے چار نئے مراکز پر فوری کام کا آغاز کیا جائے تاکہ شہریوں کو بروقت اور معیاری ایمرجنسی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں سی ڈی اے کے مستقل ریونیو میں اضافے اور مالی خود انحصاری کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ ادارے کی مالی مضبوطی کے لیے دیرپا ریونیو ماڈل پر کام کیا جائے اور آمدن میں اضافے کے قابلِ عمل منصوبوں پر جلد پیشرفت یقینی بنائی جائے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ ادارے کی مالی مضبوطی بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے، اس لیے دونوں پہلوؤں پر مؤثر انداز میں پیش رفت کی جائے۔
اجلاس میں ایکسپریس وے سروس روڈ پراجیکٹ پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ منصوبے پر کام ہر صورت مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس کے دوران اسلام آباد کے مختلف میگا پراجیکٹس پر ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
