ہومکالم وبلاگزسفارت کاری میں لپٹی جنگ

سفارت کاری میں لپٹی جنگ

تحریر: محمد محسن اقبال


امریکی قیادت کی تاریخ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک منفرد شخصیت کے طور پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہ بیک وقت ایک سیاست دان، کامیاب کاروباری شخصیت اور فری اسٹائل کشتی کے شوقین ہیں۔ ان کے اندازِ فکر، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں وہ رنگ جھلکتا ہے جو ان کے پیش روؤں سے خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے، بلکہ بہت سے مبصرین کی رائے میں اس کی کوئی واضح مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ تجزیہ نگار انہیں مزاج کے اعتبار سے لچک دار قرار دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جس مؤقف پر وہ ایک لمحے میں پوری قوت سے قائم دکھائی دیتے ہیں، اگلے ہی لمحے اسی کی ضد اختیار کر لینے میں بھی کوئی تامل محسوس نہیں کرتے۔


یہ کیفیت اٹھائیس فروری 2026ء سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد پوری طرح نمایاں ہوئی۔ اس عرصے کا، خصوصاً جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے دفاع تک، باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں کم از کم سات نمایاں تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ابتدا میں انہوں نے معاشی خدشات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کی مالی مشکلات کی کوئی حیثیت نہیں، اصل مقصد صرف یہ ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہ ہونے دیا جائے۔ مگر جی-سیون اجلاس تک پہنچتے پہنچتے ان کا لہجہ بدل چکا تھا۔ اب وہ ایک ایسے معاہدے کی ضرورت پر زور دے رہے تھے جو عالمی معیشت کو ہوور دور اور عظیم کساد بازاری جیسے بحران سے بچا سکے، اور اس مؤقف کی تائید میں وہ مالیاتی منڈیوں کی بے چینی کو دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے۔


ایران میں نظامِ حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ بھی ابتدا میں نہایت دوٹوک تھا۔ ایک ویڈیو خطاب میں انہوں نے ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ شاید یہ آنے والی کئی نسلوں کے لیے آخری موقع ہو۔ لیکن بعد کے بیانات میں یہی مطالبہ پس منظر میں چلا گیا۔ اب وہ ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات اور وہاں کی موجودہ قیادت کے ساتھ تعاون کی بات کرنے لگے، حتیٰ کہ بعض مواقع پر انہوں نے انہی رہنماؤں کو پہلے سے زیادہ “معقول” بھی قرار دیا۔
ابتدائی مرحلے میں ایران کے میزائل پروگرام، ان کی تیاری کرنے والی صنعت اور ان کی پشت پر کھڑی بحری قوت کو مکمل طور پر تباہ کرنا ایک بنیادی ہدف تھا۔ بعدازاں ان کا مؤقف یہ بن گیا کہ اگرچہ میزائل کسی محدود علاقے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، مگر دنیا کو تباہ نہیں کر سکتے، اور چونکہ دوسرے ممالک بھی ایسے ہتھیار رکھتے ہیں اس لیے ایران کے پاس بھی کچھ میزائل رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ مفاہمتی یادداشت میں ان کے خاتمے کی کوئی شرط شامل نہ کی گئی۔


ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی یہی تبدیلی دیکھی گئی۔ 2025ء اور پھر 2026ء کی فوجی کارروائیوں کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی تمام صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا اور جوہری خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے گا۔ لیکن بعد میں مقصد صرف اتنا رہ گیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنا سکے۔ اس مقصد کے لیے مکمل انہدام کے بجائے نگرانی اور آئندہ مذاکرات پر انحصار کیا جانے لگا۔


اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم پر کنٹرول، جسے ابتدا میں ناقابلِ گفت و شنید اور لازمی شرط قرار دیا گیا تھا، بعد میں نسبتاً کم اہم قرار پایا۔ کہا گیا کہ اصل مقصد صرف ایٹمی ہتھیار کی روک تھام ہے، جبکہ یورینیم سے متعلق معاملات آئندہ مذاکرات پر چھوڑ دیے گئے۔


دباؤ ڈالنے کے ذرائع بھی یکسر بدل گئے۔ ابتدا میں اقتصادی پابندیاں اور مالیاتی دباؤ بنیادی ہتھیار تھے، مگر بعد میں انہی کی جگہ مراعات نے لے لی۔ منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی فروخت کے لیے عارضی اجازت نامے، اور ایران کی تعمیرِ نو کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر تک کے ممکنہ فنڈز کی بات ہونے لگی، جبکہ مزید رعایتوں کو ایران کے مستقبل کے طرزِ عمل سے مشروط کر دیا گیا۔


اسی طرح خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرپرستی ختم کرانے کا ابتدائی عزم بھی رفتہ رفتہ پس منظر میں چلا گیا۔ اس کی جگہ براہِ راست جنگ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے وسیع تر تقاضوں پر توجہ مرکوز ہو گئی۔


ان بنیادی حکمتِ عملی کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی بار بار ایسے اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے جہاں سخت دھمکیوں کے فوراً بعد حملے مؤخر یا منسوخ کر دیے گئے۔ تین اگست تک مرتب کی گئی زمانی ترتیب کے مطابق متعدد مرتبہ بڑے حملوں کے اعلانات کیے گئے، مگر بعد میں انہیں ترک کر دیا گیا۔ تازہ ترین مثال یکم اور دو اگست کی ہے، جب ایران اور خطے کے بعض فریقین کی درخواستوں اور ممکنہ مفاہمت کے ابتدائی خدوخال سامنے آنے کے بعد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری خطرے کے خاتمے سے متعلق امکانات پر غور کرتے ہوئے کارروائی روک دی گئی۔


سات اپریل کو، اس آخری مہلت سے کچھ پہلے جس کے بعد ٹرمپ نے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی دی تھی، دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پا گئی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایسے حملے پوری تہذیب کو مٹا سکتے ہیں۔ اکیس اپریل کو ثالثوں کی درخواست پر یہ جنگ بندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی گئی، اگرچہ بعد میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔


اٹھارہ مئی کو ایک بڑے حملے کو سنجیدہ مذاکرات کے لیے مؤخر کیا گیا، لیکن جب بات چیت تعطل کا شکار ہوئی تو فوجی کارروائیاں پھر سے شروع ہو گئیں۔ گیارہ جون کی رات انہوں نے ایران پر انتہائی شدید حملے اور اس کے تیل و گیس کے ذخائر پر قبضے کی دھمکی دی، مگر چند گھنٹوں بعد ایک مبینہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی، جس نے بعدازاں مفاہمتی یادداشت کی راہ ہموار کی۔


سترہ جون کو دستخط ہونے والی اس یادداشت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی عارضی بحالی، محدود اقتصادی رعایتیں اور ساٹھ روزہ مذاکرات کا خاکہ شامل تھا، تاہم یہ حق بھی محفوظ رکھا گیا کہ اگر شرائط پوری نہ ہوئیں تو بمباری دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔


جولائی کے آغاز میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد جنگ بندی کو ختم قرار دے دیا گیا۔ درجنوں اور پھر اس سے بھی زیادہ اہداف پر حملے کیے گئے، کانگریس کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا، اور سخت ترین بیانات سامنے آئے، مگر انہی دنوں مذاکرات بھی جاری رہے۔ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہوئی، جوابی کارروائیاں چلتی رہیں، اور ستائیس جولائی کو شدید روزانہ حملوں کو ایک بار پھر روک کر سفارتی کوششوں کو موقع دیا گیا۔ اگست کے اوائل میں بھی نئی دھمکیوں کو بالآخر ممکنہ سیاسی فریم ورک کے حق میں مؤخر کر دیا گیا۔


تیل پر عائد پابندیوں میں بھی یہی اتار چڑھاؤ دکھائی دیا۔ کبھی عارضی اجازت نامے جاری کیے گئے اور پھر پابندیاں بحال کر دی گئیں۔ فوجی تیاری، عوامی بیانات اور خود مفاہمتی یادداشت کی تشریح بھی مسلسل بدلتی رہی۔ ابتدا کے زیادہ سے زیادہ اہداف—میزائلوں اور بحریہ کی تباہی، جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ، علاقائی نیٹ ورکس کا خاتمہ، حتیٰ کہ سیاسی نظام کی تبدیلی—وقت گزرنے کے ساتھ محدود اور قابلِ مذاکرات مقاصد میں ڈھلتے گئے۔

اس تبدیلی کے پس منظر میں جنگی اخراجات، تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈیوں پر اثرات، داخلی سیاسی مصلحتیں، اسلحے کی دستیابی کی حدود اور ایران کی مزاحمتی صلاحیت جیسے عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔
جون کی مفاہمتی یادداشت بنیادی طور پر عارضی اور کارکردگی سے مشروط تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس کی بیشتر شقیں چند ہی ہفتوں میں متاثر ہو گئیں، جس کے نتیجے میں لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھی اور نئے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ یوں جب تنازع اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہوا تو صورتِ حال بدستور تغیر پذیر اور غیر یقینی تھی۔
ان مسلسل تبدیلیوں کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض مواقع پر یہ سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات انہیں مجبوری یا طویل عرصے سے قائم طرزِ عمل کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ بعض ناقدین اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور بعد ازاں ان کی بحالی کے اس پورے سلسلے سے صدر ٹرمپ اور ان کے خاندان نے مالی فائدہ اٹھانے کی دانستہ کوشش کی۔ ان الزامات کی حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، فروری کے اواخر سے اگست کے آغاز تک کا ریکارڈ ایک ایسے مسلسل رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں ابتدا کے بلند اور فیصلہ کن مقاصد رفتہ رفتہ محدود، قابلِ مفاہمت اور قابلِ مذاکرات مؤقف میں تبدیل ہوتے گئے، جبکہ سخت دھمکیوں اور تحمل و مفاہمت کے درمیان تیز رفتار جھول اس پورے عرصے کا نمایاں وصف بنے رہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔