اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)پاکستان عوامی قوت پارٹی کے چیئرمین خاقان وحید خواجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی مزاحمتی سیاست اور عوامی احتجاج کی ایک اہم مثال 2019 میں سامنے آئی، جب عمران خان کی حکومت کے دوران نوجوانوں نے اپنے حقوق، روزگار اور آزادی اظہار کے لیے آواز بلند کی۔ ان کے مطابق، اس تحریک میں آروج اورنگزیب بھی ایک نمایاں آواز تھیں، تاہم اس وقت یہ احتجاج زیادہ وسعت اختیار نہ کر سکا اور اسے ریاستی اقدامات کے باعث دبا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جب ہم نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں نوجوانوں کی عوامی تحریکوں کو دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل، انصاف اور بہتر حکمرانی کے لیے پہلے سے زیادہ متحرک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عوامی قوت کا مقف ہے کہ پاکستان کے نوجوان بھی باوقار روزگار، معیاری تعلیم، شفاف نظام، مہنگائی کے خاتمے اور عوامی حقوق کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد کا حق رکھتے ہیں۔
ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب نوجوانوں کی آواز سنی جائے، اختلافِ رائے کا احترام کیا جائے اور عوامی مسائل کا حل طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات اور مثر پالیسیوں سے نکالا جائے۔ خاقان وحید خواجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ انہیں صرف وعدے نہیں بلکہ عملی مواقع اور انصاف فراہم کیا جائے۔
