اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان کی تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیلی کام کمپنی زونگ اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے منگل کے روز دریائے سندھ کی نایاب انڈس ڈولفن کے تحفظ کے لیے خصوصی انڈس ڈولفن ریسکیو اینڈ موبائل آگاہی ایمبولینس کا افتتاح کیا۔ اس جدید موبائل یونٹ کا مقصد دنیا کی نایاب ترین میٹھے پانی کی ڈولفن کی ہنگامی بنیادوں پر بروقت امداد اور تحفظ کو مزید موثر بنانا ہے۔اس حوالے سے افتتاحی تقریب ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے اسلام آباد دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک، زونگ کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو آفیسر ہوو جون لی، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان اور پاکستان میں چینی سفارت خانے کے نمائندے یانگ گوانگ یوان نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈس ڈولفن دریائے سندھ کے کنارے قائم ہونے والی تمام تہذیبوں سے بھی قدیم مخلوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ نابینا ہونے کے باوجود اس مخلوق کا آج تک زندہ رہنا اس بات کی علامت ہے کہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر بھی زندگی کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس منصوبے کی حمایت پر زونگ ٹیلی کام اور چینی سفارت خانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ادارے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں رابطوں کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے قابل قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔زونگ کے چیف ریگولیٹری آفیسر کامران علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں تقریبا دو دہائیوں سے خدمات انجام دینے والی کمپنی کے لیے یہ ایمبولینس ماحولیاتی تحفظ سے وابستگی کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبے میں پاکستان اور چین کے مضبوط ہوتے تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں تقریبا دو ہزار انڈس ڈولفن موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1992 سے سندھ اور پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے اشتراک سے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اب تک 200 سے زائد پھنس جانے والی ڈولفن کو کامیابی سے ریسکیو کر کے دوبارہ دریا میں چھوڑ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی موبائل ایمبولینس ہنگامی امدادی کارروائیوں اور نگرانی کے نظام کو مزید مثر بنائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ انڈس ڈولفن دنیا میں صرف پاکستان کے دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے، تاہم رہائشی ماحول کی تقسیم، میٹھے پانی کی کم ہوتی دستیابی اور آبپاشی کی نہروں میں پھنس جانے جیسے عوامل کے باعث یہ نسل شدید خطرات سے دوچار ہے۔یہ خصوصی موبائل یونٹ سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان دریائے سندھ کے اس حصے میں گشت کرے گا جہاں انڈس ڈولفن کی سب سے بڑی آبادی موجود ہے۔ یونٹ پھنس جانے والی ڈولفن کی بروقت نشاندہی، ریسکیو اور محفوظ مقام پر منتقلی میں معاونت فراہم کرے گا۔ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے تحت دریا کے کنارے آباد ایک ہزار پانچ سو سے زائد ماہی گیروں اور مقامی افراد کو تحفظ کے عمل میں شراکت دار بنایا جائے گا، جبکہ دور دراز بستیوں میں پچاس آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ مقامی آبادی میں انڈس ڈولفن کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔زونگ نے کہا کہ یہ اقدام کمپنی کی وسیع تر پائیداری حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد کم کاربن آپریشنز، جامع ترقی اور نجی شعبے کی جانب سے ماحول دوست سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
