انقرہ(آئی پی ایس ) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول کے تاریخی وحدتین محل میں ترکیہ کے دورے پر پہنچے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا پرجوش خیرمقدم کیا، جہاں دونوں رہنماں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اعلی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ترکیہ میڈیا کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی، جس کے بعد دونوں رہنماں نے بند کمرے میں ون آن ون ملاقات کی۔
دوطرفہ ملاقات کے بعد دونوں رہنماں نے اپنے اپنے اعلی سطح کے وفود کے ہمراہ مذاکرات کا دوسرا دور شروع کیا۔ ترک وفد میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان، قومی انٹیلی جنس تنظیم (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم کالن، ڈائریکٹر کمیونیکیشنز برہان الدین دوران اور صدر اردوان کے چیف مشیر عاکف چاغاتائے کلیچ شامل تھے۔ان ملاقاتوں کے اختتام کے بعد ہی دونوں سربراہانِ مملکت نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی ہے۔
ترکیہ میڈیا کے مطابق مذاکرات میں تجارت، دفاع، سرمایہ کاری اور انسدادِ دہشتگردی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال بھی ایجنڈے کا اہم حصہ رہی ہے۔ترکیہ میڈیا کے مطابق دونوں رہنماں نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی سلامتی، غزہ اور شام کی صورتحال سمیت مشرقِ وسطی میں امن و استحکام سے متعلق امور پر گہری گفتگو کی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں۔ وہ حال ہی میں تہران میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں بھی شریک ہوئے تھے۔پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک دفاعی پیداوار، تجارت، سیکیورٹی اور علاقائی سفارت کاری کے شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی، بحری دفاعی منصوبوں اور انسدادِ دہشتگردی کے شعبوں میں بھی باہمی اشتراک کو مزید وسعت دی گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ صدر رجب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کی یہ ملاقات انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
