Wednesday, June 24, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزسفارتی تنہائی کا شکار نہیں،پاکستان کامیاب ثالث ،پیس میکر بن چکا،نائب وزیر اعظم

سفارتی تنہائی کا شکار نہیں،پاکستان کامیاب ثالث ،پیس میکر بن چکا،نائب وزیر اعظم

تہران(آئی پی ایس )پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں پاکستان نے بطور ثالث بہترین کردار ادا کیا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مل کر پاکستان کو بطور ثالث چنا۔ پاکستان کو آج دنیا بھر میں پیس میکر اور ثالث ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی بار ایسا لگا کہ شاید یہ ممکن نہ ہو پائے تاہم آخر کار ان دونو ں فریقوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوئے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور ایران کی جوابی کارروائی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ جنگ بندی سے قبل 2800 کے قریب ڈرونز اور میزائل کے حملے ایران کی طرف ہوئے جن میں سے کچھ نشانے چوک بھی گئے پھر جوابا امریکی اڈوں پر ایران نے حملے کیے۔۔

پھر ایران جب رد عمل میں حملے کرتا تھا تو ہم کہتے تھے کہ یہ تمام مسلمان ممالک ہیں ان پر مہربانی کر کے اٹیکس نہ کریں تو وہ کہتے تھے کہ ہمارا ہدف امریکی اڈے ہیں ہم امریکہ تو نہیں پہنچ سکتے تو جو سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے ہم اس پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ہمارا بھی امتحان تھا تاہم ہم اس میں کامیب ہوئے۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے میں متحرک کردار ادا کیا۔

خطے میں امن کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ان کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سیزفائر اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ پاکستان نے ایران، امریکا، قطر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور دونوں جانب مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔اسحاق ڈار کے مطابق اعلی سطح مذاکرات کے متعدد ادوار منعقد ہوئے جن میں کچھ باضابطہ رانڈز شامل تھے۔ بعض مذاکراتی سیشن 21 گھنٹے تک جاری رہے اور دوپہر سے شروع ہو کر اگلے روزصبح تک چلتے رہے۔

مختلف مراحل پر وقفے لے کر مشاورت کا عمل آگے بڑھایا گیا تاکہ تمام نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔اسحاق ڈار کے مطابق چند سال پہلے تک پاکستان کو ڈپلومیٹک آئیسولیٹڈ کنٹری کہا جاتا تھا تاہم آج ہمیں ایک سے کہیں زائد دعوتیں ملتی ہیں جس میں سے ہمیں منتخب کرنا ہوتا ہے۔ان کے مطابق ہم چاہتے تھے کہ امن مزاکرات کے تمام مراحل پاکستان میں طے پائیں تاہم دونوں فریقوں کو اپنی اپنی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب معاشی ترقی کی جانب لے جانے میں اہم رہیں گے۔اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے ایوان میں تنقید کے جواب میں انھوں نے دعوی کیا کہ جس جماعت کے ساتھ مسئلہ ہوتا ہے وہاں میں انوالو ہوتا ہوں لیکن آپ بہت آگے نکل گئے ہیں جب آپ اپنے اداروں پر، جی ایچ کیو پر حملہ کریں گے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔