Sunday, June 21, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستاندرآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر بھاری ٹیکسز عائد کرنے کی منظوری

درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر بھاری ٹیکسز عائد کرنے کی منظوری

اسلام آباد(سب نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 86 سے 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز کی منظوری دے دی۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس اتوار کو چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں درآمدی و مقامی موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں، آٹو پالیسی، الیکٹرک گاڑیوں اور درآمدی ڈیوٹیوں سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں پانچ سالہ آٹو پالیسی بھی زیر بحث آئی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ موجودہ آٹو پالیسی 30 جون کو ختم ہو رہی ہے۔سیکریٹری تجارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 1800سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو 74 فیصد تک لانے کی تجویز ہے جبکہ اس وقت ان گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ملا کر بوجھ 156 فیصد تک پہنچتا ہے۔ اسی طرح 1500 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹیز کی شرح 91 فیصد سے کم کرکے 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد اور 850 سی سی گاڑیوں پر 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آٹو پالیسی پر بحث کے دوران ممبر کمیٹی جاوید حنیف خان نے کہا کہ ٹیکسوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا، جس پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے سوال اٹھایا کہ اگر ریلیف نہیں دیا گیا تو فنانس بل میں تبدیلیاں کیوں کی گئیں۔اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی جبکہ دو کروڑ روپے سے کم مالیت کی الیکٹرک گاڑیاں بھی ایف ای ڈی سے مستثنی رہیں گی۔ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد ہوگا۔ممبر کمیٹی شاہدہ اختر نے الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز سے متعلق حکومتی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب چارجنگ اسٹیشنز ہی موجود نہیں ہوں گے تو گاڑیاں کیسے چلیں گی؟ جبکہ پاکستان میں بجلی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حکومت کو واضح پالیسی اپنانا ہوگی کہ آیا الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا ہے یا نہیں۔ حنا ربانی کھر نے نشاندہی کی کہ الیکٹرک گاڑیوں پر پہلے 30 فیصد ڈیوٹی موجود نہیں تھی اور اس شعبے میں تیزی سے جدت آ رہی ہے جہاں ہر چند ماہ بعد نئی ٹیکنالوجی سامنے آجاتی ہے۔شرمیلا فاروقی نے الیکٹرک گاڑیوں پر نئے ٹیکسوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غلط پالیسی قرار دیا۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ نئی آٹو پالیسی میں 1800 سی سی تک گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جا رہی۔ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 2000 سے 3000 سی سی درآمدی گاڑیوں پر 86 فیصد جبکہ 3000 سی سی سے زائد درآمدی گاڑیوں پر 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت بڑی گاڑیوں کو سستا نہیں کرنا چاہتی۔ اجلاس میں کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں کے درآمدی پرزہ جات پر ایک سال کے لیے ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت میں توسیع کی تجویز منظور کرلی۔مزید برآں بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ ایف بی آر حکام کے مطابق 75 ہزار ڈالر مالیت تک کی درآمدی ای وی پر 30 فیصد جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی درآمدی ای وی پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوگی۔قائمہ کمیٹی نے درآمدی ہائبرڈ، الیکٹرک اور لگژری گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 86 سے 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔

دوسری طرف چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کو درآمدی موبائل فونز پر عائد 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی کرادی۔ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے درآمدی موبائل فونز پر عائد 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ 200 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔اجلاس کو موبائل فونز پر ٹیکسوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر حکام نے بتایا کہ 30 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد، 31 سے 100 ڈالر مالیت کے فونز پر 36 فیصد، 101 سے 200 ڈالر مالیت کے درآمدی فونز پر 40 فیصد، 201 سے 350 ڈالر مالیت کے فونز پر مثر ٹیکس شرح 38 فیصد، 351 سے 500 ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد جبکہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے فونز پر مثر ٹیکس شرح 41 فیصد ہے۔حکام کے مطابق موبائل فون کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس کی شرح بھی بڑھتی ہے اور فی یونٹ ٹیکس 1500 روپے سے بڑھ کر 141500 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 44 فیصد درآمدی فونز 31 سے 100 ڈالر کی کم ٹیکس والی کیٹیگری میں شامل ہیں جبکہ تمام درآمدی فون کیٹیگریز میں اوسط موثر ٹیکس شرح 39 اعشاریہ6 فیصد بنتی ہے۔اجلاس کے دوران اراکین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ میں اس وقت لاکھوں نان پی ٹی اے موبائل فون موجود ہیں اور موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے اقساط کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔

اراکین کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں چھوٹی چھوٹی اشیا پر بھی انسٹالمنٹس کی سہولت موجود ہے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ایف بی آر اور پی ٹی اے کو مشترکہ طور پر اقساط کے نظام سے متعلق قابل عمل منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ممبر کمیٹی حنا ربانی کھر نے موبائل فونز پر ٹیکسوں سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محض ریونیو کے لیے ہے یا کسی کمپنی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کے موبائل فون کی خریداری پر اتنا بڑا مالی بوجھ نہیں ہونا چاہیے۔اس پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ موبائل فونز سے حاصل ہونے والی آمدن قومی ریونیو ہدف کا حصہ ہے، درآمدی موبائل فونز سے سالانہ 37 ارب روپے ٹیکس وصول ہوتا ہے جبکہ صرف ایپل فونز سے 21 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم قیمت فونز کی سلیب میں کمی سے تقریبا ایک ارب روپے کا مالی فرق پڑے گا جسے کسی اور ذریعے سے پورا کرنا ہوگا۔سیکریٹری خزانہ نے بھی اس موقف کی تائید کی جبکہ رکن کمیٹی جاوید حنیف خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی چیز کی پابند نہیں اور اگر وہ متفق نہ ہو تو واضح طور پر اپنی رائے دے سکتی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔