نیویارک (آئی پی ایس)ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اس پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ حالیہ صورتحال اور بعض اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ موجود ہے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ضروری ہے، تاہم امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھے گا۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی اعلان اور امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی خواہش ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف کشیدگی موجود ہے جبکہ دوسری جانب فریقین کے درمیان بات چیت کے امکانات بھی برقرار ہیں۔

