اسلام آباد (سب نیوز)ساتویں ڈیجیٹل زراعت شماری 2024 کی صوبہ سندھ کی رپورٹ کا اجرا ،صوبے میں شواہد پر مبنی زرعی منصوبہ بندی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے ،پاکستان ادارہ شماریات نے سندھ کے لیے ساتویں زراعت شماری 2024 کی صوبائی رپورٹ جاری کر دی ہے، جو زرعی شعبے میں موثر پالیسی سازی، بہتر منصوبہ بندی اور ترقیاتی حکمتِ عملیوں کے لیے ایک مربوط بنیاد فراہم کرے گی۔یہ زراعت شماری جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے زرعی معلومات کے حصول، تجزیے اور استعمال میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو مستقبل کی زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگی۔ سندھ میں مویشیوں کی تعداد 2006 میں 32.143 ملین سے بڑھ کر 2024 میں 50.000 ملین تک پہنچ گئی۔پاکستان ادارہ شماریات کے چیف شماریات جناب ڈاکٹر نعیم الظفر(ستارہ امتیاز)نے ساتویں زراعت شماری 2024 کی سندھ رپورٹ کے نتائج کا باضابطہ اجرا کیا۔ “مربوط ڈیجیٹل شمار” کے عنوان سے یہ زراعت شماری پاکستان کی شماریاتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جس میں زراعت، لائیو اسٹاک اور زرعی مشینری سے متعلق جامع معلومات اکٹھی کی گئی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف شماریات جناب ڈاکٹر نعیم الظفرنے زراعت شماری کے انعقاد میں پاکستان ادارہ شماریات کی کاوشوں کو سراہا اور ڈیٹااکٹھا کرنے کے عمل میں جدت، شفافیت اور درستگی کے فروغ پر ادارے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ملک کی معاشی ترقی، خوشحالی اور مثر پالیسی سازی میں دور رس نتائج کے حامل ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور مجموعی قومی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
زراعت کی اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے ساتویں مربوط زراعت شماری کا آغاز کیا، جو اقتصادی اصلاحات اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام حکومتِ پاکستان کے “اڑان پاکستان ” کے وژن فریم ورک کے تحت ہے، جس کا مقصد پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے14 سال کے وقفے کے بعد منعقد کی جانے والی ساتویں زراعت شماری 2024 ، پاکستان کے زرعی شماریاتی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ملک کی پہلی زراعت شماری ہے جو مکمل طور پر ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دی گئی۔جس سے اعدادوشمار کے معیار، آپریشنل نگرانی اور مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔اس شمار کو جنوری 2025 سے فروری 2025 تک کامیابی کے ساتھ مکمل کیاگیا، جبکہ اس کے لیے ایک جامع تربیتی نظام بھی متعارف کرایا گیا۔ اس طرح یہ زراعت شماری قومی ڈیٹا بینک کی تشکیل اور شماریاتی معلومات کے حصول کے حوالے سے ایک نئے معیار کے قیام کا باعث بنی ہے۔صوبائی نتائج پالیسی سازی، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور وسائل کی مثر تقسیم کے لیے شواہد پر مبنی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو پائیدار زرعی ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔صوبہ سندھ میں ربیع سیزن کے دوران 6.497 ملین ایکڑ اور خریف سیزن کے دوران 6.442 ملین ایکڑ رقبے پر گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی اور چارہ کاشت کیا گیا۔ گندم 5.349 ملین ایکڑ کے ساتھ سب سے بڑی فصل رہی، اس کے بعد چاول 2.815 ملین ایکڑ، کپاس 1.829 ملین ایکڑ، گنا 0.514 ملین ایکڑ، چارہ 0.352 ملین ایکڑ اور مکئی 0.077 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی۔ گزشتہ 14 برسوں کے دوران پاکستان کے مجموعی خریف زیرِ کاشت رقبے میں سندھ کا حصہ 18 فیصد جبکہ ربیع زیرِ کاشت رقبے میں 15 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔* صوبے کا زیرِ کاشت رقبہ 2010 میں 7.643 ملین ایکڑ سے بڑھ کر 2024 میں 8.108 ملین ایکڑ تک پہنچ گیا۔
زراعت شماری 2024 کے مطابق نہری نظام اور ٹیوب ویل صوبے کے مجموعی زیرِ کاشت رقبے کے 88 فیصد حصے کو سیراب کرتے ہیں، جو آبپاشی کے بنیادی ذرائع ہیں۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ٹیوب ویل کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو زیرِ زمین پانی پر بڑھتے ہوئے انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔* مویشیوں کی مجموعی تعداد 2024 میں 50 ملین تک پہنچ گئی، جو 2006 کے بعد سے سالانہ 3.13 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔* سندھ پاکستان کے بڑے مویشیوں کی مجموعی تعداد کا تقریبا 20 فیصد حصہ رکھتا ہے، جو ملکی لائیو اسٹاک شعبے اور زرعی معیشت میں اس کے اہم کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ صوبے میں مویشیوں کی تعداد 19.01 ملین بکریوں، 11.21 ملین گائے، 13.46 ملین بھینسوں، 4.74 ملین بھیڑوں اور 0.37 ملین اونٹوں پر مشتمل ہے، جو مویشی پالنے، دیہی معیشت اور روزگار کے فروغ میں سندھ کے کلیدی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔* سندھ میں 2004 سے 2024 کے دوران ٹریکٹروں کی ملکیت میں 137 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو زرعی مشینری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹیوب ویل اور لفٹ پمپ کی دستیابی زرعی پیداوار میں زیرِ زمین پانی اور پانی کو بلند کرنے والی ٹیکنالوجیز کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ سال 2024 میں سندھ میں 63,578 ٹیوب ویل اور 12,806 لفٹ پمپ ریکارڈ کیے گئے۔پاکستان ادارہ شماریات کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر،(ستارہ امتیاز)نے کہا کہ ساتویں زراعت شماری 2024 محض ایک شماریاتی کامیابی ہی نہیں بلکہ ایک انقلابی جدت ہے۔ ڈیٹا مانیٹرنگ، وسیع اور منظم تربیتی پروگراموں کے نفاذ، اور جدید ترین جغرافیائی معلوماتی نظام کے انضمام کے ذریعے زراعت شماری نے بڑے پر پیمانے اعدادو شمار اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ایک نیا بہترین معیار قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی اور استعدادِ کار میں اضافہ شفافیت، درستگی اور کارکردگی کو یقینی بنا تے ہوئے آئندہ قومی سرویز و مردم شماریوں کے لیے ایک نیا معیار قائم کر سکتا ہے۔ تقریب کا اختتام زراعت شماری کیصوبائی نتائج کی رونمائی کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر افسران اور اہلکاروں کو ان کی غیر متزلزل معاونت، لگن اور انتھک محنت کی وجہ سے اس اہم قومی سرگرمی کو محض چھ ماہ کی مدت میں کامیابی سے مکمل کرنے کے اعتراف میں یادگاری شیلڈز پیش کیں ۔ پاکستان ادارہ شماریات نے نتائج اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ زراعت شماری سے متعلق تفصیلی ٹیبلز، چارٹس اور میٹا ڈیٹا بھی پالیسی سازوں، محققین اور ترقیاتی شراکت داروں کی سہولت کے لیے آن لائن دستیاب ہوں گے۔

